ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکاکی معاشی پابندیوں کو دہشت گردی قرار دے دیا ۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے 14 سال پہلے ایران پر لگائی گئی تاریخ کی سب سے تباہ کن پابندیاں ناکام ہوئیں، 8 سال پہلے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤکی پالیسی ناکام ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کیخلاف امریکی پابندیوں کا اثر،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
انہوں نے کہا کہ 5 مہینے پہلے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی شرط بھی ناکامی کا شکار ہوئی، آج ایران پر معاشی سطح پر اب تک کا سب سے کاری وار کیا گیا ہے، اس اقدام کا بھی ناکام ہونا طے ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ہم یہ سب پہلے بھی دیکھ چکے ہیں ، وہی بکواس، بس کردار بدل گئے ہیں۔
اس کے علاوہ ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کو تیار ہونا ہوگا، فوج بھلے کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو ، عوام بھوکے ہوں تو حکومتوں کی مشکل بڑھ جاتی ہے ۔
دوسری طرف ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران کسی صورت دھونس اور دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا تاہم جنگ کسی نہ کسی مرحلے پر ختم ہونی ہے اور بہتر یہی ہے کہ اسے آج ہی ختم کی جائے، جب ایران طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہے۔
انہوں نے کہاکہ حالیہ مذاکرات کے ذریعے طے پانے والا معاہدہ ایک بڑی کامیابی ہے جس کی ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے متفقہ طور پر منظوری دی ہے۔
ایرانی صدر پزشکیان نے کہا کہ معاہدے میں ایک بھی ایسی شق نہیں مل سکتی جو ایران کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کی نشاندہی کرتی ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایران امن کو مسترد نہیں کرتا تاہم دھوکے کے پیش نظر چوکس رہنا ضروری ہے اور ہم کسی صورت دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، آخری سانس تک ان کے خلاف کھڑے رہیں گے اور انہیں فیصلہ کن جواب دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا ایران کیخلاف تباہ کن معاشی پابندیوں کا اعلان،سہولت فراہم کرنیوالے ممالک کو بھی سنگین نتائج کی دھمکی
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران کے ساتھ کاروبار جاری رکھنے والے ممالک کے خلاف بھی امریکی اقدامات نافذ کیے جائیں گے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرنے جا رہا ہے، جن کا مقصد ایرانی حکومت کی اپنے پراکسی گروہوں کے ذریعے کارروائی کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔




