ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں دوطرفہ تعلقات، ایران اور غزہ کی صورتحال سمیت پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی، دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے سمیت غزہ اور ایران کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا۔
ترک صدارتی دفتر کے مطابق صدر اردوان نے ٹرمپ سے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا ضروری ہے، سفارت کاری سے فائدہ اٹھا ئیں جبکہ ترکیے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت؛ وزیراعظم شہباز شریف کا پرجوش خیرمقدم
صدر اردوان نے غزہ میں اسرائیلی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں پر حملے ایسے وقت کیے جا رہے ہیں جب امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد ہونا تھا۔
یا درہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت میں مذاکرات کے لیے رکھی گئی 60روز کی ڈیڈ لائن ختم ہوگئی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں 60روز ہ ڈیڈ لائن پابندیوں کے خاتمے اور جوہری معاملے پر مذاکرات کے لیے تھی لیکن امریکا کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کےباعث بات چیت ہی شروع نہیں ہوئی۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان اور قطرکی کوششیں جاری ہیں ،ان کے علاوہ کوئی اور ثالث نہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ ایرانی معاہدہ تو کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ ایسا معاہدہ نہیں کریں گے جسے میں ضروری سمجھتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا وہاں موجود ہونے کا مقصد صرف ایک ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا اور ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔
ٹرمپ نے کہاتھا کہ امریکا ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت میں توسیع نہیں چاہتا۔




