(نیوز ڈیسک): جدید طبی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ صحت بخش خوراک کے انتخاب کے ساتھ ساتھ کھانے کے اوقات بھی انسان کی مجموعی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق انسان کے جسم کی اندرونی گھڑی یا ‘سرکیڈین ردھم’ اس بات کا تعین کرتی ہے کہ خوراک کتنی کارآمد انداز میں ہضم ہوگی، اور اس سائنس کو ‘کرونو نیوٹریشن’ کہا جاتا ہے۔
دیر سے کھانا اور میٹابولزم کے مسائل
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دوپہر یا رات کا کھانا تاخیر سے کھانے سے وزن میں اضافہ، خون میں شکر (گلوکوز) کی سطح میں بے ترتیبی اور میٹابولزم کی سست روی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسپین اور بوسٹن میں کی جانے والی طبی تحقیقات کے مطابق جو افراد دن کا بڑا کھانا وقت پر کھاتے ہیں وہ دیر سے کھانا کھانے والوں کے مقابلے میں نہ صرف تیزی سے وزن کم کرتے ہیں بلکہ ان میں انسولین کی حساسیت بھی بہتر رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا وزیراعظم صحت کارڈ کو اے آئی سے ہم آہنگ کرنے کا بڑا فیصلہ
میلاٹونن ہارمون اور خون میں شکر کی سطح
اس کے برعکس سونے سے کچھ دیر پہلے کھانا کھانے سے جسم میلاٹونن ہارمون کی موجودگی کے باعث گلوکوز اور انسولین کو صحیح طریقے سے پروسیس نہیں کر پاتا، جس سے بھوک بڑھانے والے ہارمونز متحرک ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کی تجاویز اور متوازن غذائی روٹین
طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ دن کا سب سے بڑا کھانا دوپہر کے وقت کھایا جائے اور رات کے کھانے میں کاربوہائیڈریٹس کی جگہ ہلکی اور پروٹین سے بھرپور غذا جیسے مرغی، مچھلی، گری دار میوے یا بیج شامل کیے جائیں۔ اس کے علاوہ سونے سے کم از کم 3 گھنٹے پہلے کھانا کھا لینا اور ناشتہ وقت پر کرنا دل اور شریانوں کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔




