وفاقی حکومت نے وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تاریخی منصوبے کے تحت اسپتالوں میں بیماریوں کی تشخیص کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کیا جائے گا، جس سے مریضوں کو کم وقت میں زیادہ درست اور سستی طبی تشخیص فراہم کی جا سکے گی۔
علی بابا گروپ کے ساتھ عالمی اشتراک اور منصوبے کا دائرہ کار:
حکومتی ذرائع کے مطابق، وفاقی حکومت اس جدید ترین منصوبے کے نفاذ کے لیے چین کے عالمی شہرت یافتہ ادارے علی بابا گروپ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، اور دونوں اداروں کے درمیان آئندہ ماہ باضابطہ معاہدہ طے پانے کا قوی امکان ہے۔ معاہدے کے بعد ملک بھر کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں یہ جدید اے آئی سسٹم مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔ ابتدائی تجویز کے مطابق، یہ جدید ترین نظام ملک بھر کے گیارہ سو سے زائد سرکاری اور نجی اسپتالوں میں متعارف کرایا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے منتخب اسپتالوں کو اس منصوبے کا حصہ بنایا جائے گا، جس کا دائرہ کار بعد میں ضرورت کے تحت مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔ اس اہم پیش رفت کے سلسلے میں وزیراعظم نے علی بابا گروپ کے سربراہ کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صحت کارڈسہولت بحال،راولپنڈی سمیت متعدد ہسپتال شامل کرلئے، بازل علی نقوی
20 کروڑ شہریوں کو فائدہ اور کینسر کی جلد تشخیص:
اس جدید ترین ٹیکنالوجی کی بدولت پاکستان کے تقریباً بیس کروڑ شہریوں کو علاج و معالجے کی بہترین اور تیز ترین سہولیات میسر آئیں گی۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے کینسر، دماغی امراض اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کی ابتدائی مراحل میں ہی انتہائی درست تشخیص ممکن ہو جائے گی، جس سے نہ صرف قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکیں گی بلکہ علاج بھی بروقت شروع ہو سکے گا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی سسٹم کی مدد سے غلط تشخیص کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جائیں گے اور اسپتالوں کے اندر تشخیصی عمل کی رفتار اور افادیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔
سالانہ اربوں روپے کے اخراجات اور بجٹ میں بڑی بچت:
صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے بیماریوں کی تشخیص پر اٹھنے والے ملکی اخراجات میں سالانہ اربوں روپے کی بچت متوقع ہے۔ اگر بجٹ کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو وفاقی حکومت وزیراعظم صحت کارڈ پر سالانہ تقریباً دس ارب روپے خرچ کرتی ہے، جبکہ پنجاب حکومت ساٹھ ارب روپے، خیبرپختونخوا حکومت چالیس ارب روپے سے زائد اور بلوچستان حکومت سالانہ دس ارب روپے اس مد میں خرچ کر رہی ہے۔ اے آئی ٹیکنالوجی کے فعال ہونے سے تشخیصی عمل انتہائی تیز اور سستا ہو جائے گا، جس سے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے خطیر بجٹس پر دباؤ نمایاں حد تک کم ہو جائے گا۔




