خیبرپختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی فورسز نے عزم استحکام ویژن کے تحت فتنہ الخوارج کے خلاف ایک مؤثر انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے آٹھ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کامیاب آپریشن ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات ملنے پر کیا گیا، جہاں ہلاک ہونے والے آٹھ دہشت گردوں میں فتنہ الخوارج کے تین اہم سرغنہ بھی شامل ہیں۔
غیر ملکی کرنسی اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد:
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کامیاب آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے غیر ملکی کرنسی اور بڑی مقدار میں خطرناک اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
فورسز کی جانب سے ملک سے دہشت گردی کے اس ناسور کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا گیا ہے، اور واضح کیا گیا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں ان کے مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ داخلہ کا خراج تحسین:
دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فتنہ الخوارج کے آٹھ دہشت گردوں کو آپریشن میں ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور دہشت گردوں کے خلاف کی گئی اس بروقت کارروائی کو بھرپور انداز میں سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز کا کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 7 دہشت گرد ہلاک
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ناگزیر حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی بے پناہ بہادری اور عزم کی تعریف کی اور اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی اس کامیاب آپریشن میں آٹھ خوارجیوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور کہا کہ دہشت گردوں کے تمام مذموم عزائم کو خاک میں ملانے والے سیکیورٹی فورسز کے بہادر سپوتوں پر پوری قوم کو فخر ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی مسلسل کارروائیاں اور مجموعی صورتحال:
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کامیاب کارروائیاں مسلسل جاری رکھی جا رہی ہیں، اور اس سے قبل شمالی وزیرستان کے علاقے عیدک میں بھی ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران سات خوارج کو کامیابی سے ہلاک کیا گیا تھا۔
اس وقت خیبرپختونخوا کا خطہ دہشت گردی کے سنگین خطرات سے دوچار ہے، جہاں ایک طرف سیکیورٹی فورسز دلیرانہ انداز میں دہشت گردوں کی کمر توڑ رہی ہیں، وہیں دوسری طرف صوبائی حکومت کا لانگ مارچ دہشت گردی کے خلاف ان کی غیر سنجیدگی کو بھی واضح طور پر بے نقاب کرتا ہے۔




