ناروے کے سوالبارڈ جزائر میں ایک شخص کو اس وقت جرمانہ کیا گیا جب اس نے فوگ ہارن بجایاجس کی تیز آواز سے ایک سوئے ہوئے قطبی ریچھ کی آنکھ کھل گئی۔ علاقے کے گورنر نے ایک بیان میں یہ اطلاع دی۔
ناروے میں ایک شخص پر اس وقت جرمانہ کیا گیا جب اس نے فوگ ہارن بجایاجس کی تیز آواز سے ایک سوئے ہوئے قطبی ریچھ کی آنکھ کھل گئی۔
یہ بھی پڑھیں:جہلم ویلی، پاہل میں دن دیہاڑے ریچھ کا حملہ، شہری شدیدزخمی
سی این این نے علاقے کے گورنر کا ایک بیان شائع کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ اگست کے شروع میں سوالبارڈ جزائر میں پیش آیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک شخص نے ایک کشتی پر نصب بلند اور تیز آواز والا فوگ ہارن بجایا۔ یہ ہارن عام طور پر سمندری خطرات سے خبردار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کشتی شمالی سوالبارڈ کی تنگ خلیج سے گزر رہی تھی۔
جمعرات کو اس شخص پر 50 ہزار نارویجن کرونر (تقریباً 5 ہزار 300 امریکی ڈالر) جرمانہ عائد کیا گیا۔ سوالبارڈ کے گورنر کا کہنا ہے کہ اس عمل سے قطبی ریچھ کو بلاوجہ اور جان بوجھ کر پریشان کیا گیا تھا۔
سوالبارڈ کے گورنر لارس فاؤسے نے ایک بیان میں بتایا کہ جب کشتی وہاں سے گزری تو اس میں سوار افراد نے مبینہ طور پر ایک قطبی ریچھ کو خشکی پر سویا ہوا دیکھا۔
ان کے مطابق کشتی پر موجود ایک شخص نے ریچھ کو دیکھنے کے بعد فوگ ہارن بجایا، جس سے ریچھ جاگ اٹھا اور دوسری جانب چلا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:جاپان میں ریچھوں کو آبادی سے دور رکھنے کے لیےمنفرد طریقہ اپنایا گیا
حکام کا کہنا ہے کہ ہارن بجانے والے اس شخص نے جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
واضح رہے کہ سوالبارڈ میں جانوروں کو پریشان کرنے پر پہلے بھی اس طرح کے جرمانے عائد کیے جا چکے ہیں۔
سوالبارڈ کے ماحولیاتی قوانین کے تحت قطبی ریچھوں کو غیر ضروری طور پر پریشان کرنا، انہیں اپنی طرف متوجہ کرنا یا اُن کا تعاقب کرنا منع ہے۔ 1973 سے رائج بین الاقوامی قوانین کے تحت قطبی ریچھوں کو محفوظ جانوروں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ان قوانین کے تحت جولائی سے فروری تک کسی شخص کو قطبی ریچھ سے 300 میٹر (984 فٹ) سے زیادہ قریب جانے کی اجازت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:رانو ریچھ کراچی سے اسلام آباد منتقلی کے لیے روانہ
ان جانوروں کے ملاپ کے سیزن کے دوران مارچ سے جون تک یہ فاصلہ بڑھا کر 500 میٹر (1 ہزار 640 فٹ) کر دیا جاتا ہے۔ سوالبارڈ میں قطبی ریچھوں کو مارنا اس وقت سے غیر قانونی ہے جب انہیں محفوظ جانور قرار دیا گیا تھا۔
ایک اندازے کے مطابق سوالبارڈ اور بحیرۂ بارینٹس کے علاقے میںتقریباً 3 ہزار قطبی ریچھ موجود ہیں۔ بحیرہ بارینٹس بحرمنجمد شمالی کا ایک سمندری علاقہ ہے جو ناروے اور روس کی سمندری حدود میں واقع ہے۔




