دکھاوے سے بھرپور طرززندگی کے لیے مشہورغریب ترین ملک زمبابوے کی معروف کاروباری شخصیت وِکنل چیوايو ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہوگئے۔
وہ اُن نمایاں اور غیر معمولی طور پر دولت مند کاروباری شخصیات میں شامل تھے جن کے تعلقات ملک کی حکمران جماعت سے تھے۔
43 سالہ وِکنل چیوايو کو عوامی تقریبات میں اپنے اتحادیوں کو لگژری گاڑیاں اور بڑی نقد رقوم دینے کے لیے شہرت حاصل تھی۔
یہ بھی پڑھیں: دولت کی نمائش، بھارتی خاتون یوٹیوبر کے گھر سے کروڑوں کے زیورات ، نقدی چوری
ان کا پرتعیش طرزِ زندگی اور کروڑوں روپے کی سخاوت زمبابوے کے عام شہریوں کو درپیش شدید معاشی مشکلات سے بالکل مختلف تھی۔
وِکنل چیوايو اور اُن کی اہلیہ لوسی موتیکے ان چھ افراد میں شامل تھے جو بدھ کو دارالحکومت ہرارے کے مشرق میں ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہوئے۔ ان کے خاندان نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر آخری پوسٹ میں اعلان کیا گیا کہ انہوں نے دو وکلا کے لیے جدید ترین ایس یو وی گاڑیاں خریدی ہیں۔ آنجہانی وِکنل چیوايو کے مطابق یہ دونوں وکلا ’غربت کے دنوں‘ سے اُن کے ساتھ کھڑے تھے۔
ماہر اقتصادیات فیلکس چاری نے کہا کہ ’لوگ جب گاڑیاں اور نقد رقم اس طرح تقسیم ہوتے دیکھتے ہیں تو یہ انہیں ایک ذاتی مسئلہ محسوس ہوتا ہے۔
وِکنل چیوايو کے طویل عرصے سے برسراقتدار جماعت زانو-پی ایف اور صدر ایمرسن منانگاگوا کے ساتھ قریبی تعلقات نے بھی عوامی بداعتمادی میں اضافہ کیا جبکہ وہ تقریباً دو دہائیاں قبل منی لانڈرنگ کے جرم میں تین سال جیل بھی کاٹ چکے تھے۔
وہ اس کے باوجود زمبابوے سے باہر بھی اعلیٰ سطح کے حلقوں میں آتے جاتے رہے اور ایسواتینی، کینیا اور یوگنڈا کے رہنماؤں سے بھی اُن کے روابط رہے۔
زانو-پی ایف کے بااثر طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک اور دولت مند کاروباری شخصیت کوداکواشے تگوائری کو اگست میں سینیٹ کا رکن مقرر کیا گیا۔
یہ تقرری جولائی میں منظور ہونے والی آئینی ترمیم کے تحت ہوئی، جس کے ذریعے صدر کو 10 نئے سینیٹرز براہِ راست مقرر کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانی باصلاحیت نوجوان نے اپنی مدد آپ کے تحت ہیلی کاپٹر تیار کرلیا!
کمزور سیاسی اپوزیشن سے وابستہ اور بولاوایو کے سابق میئر ڈیوڈ کولٹارٹ نے اگست میں سوشل میڈیا پر کہا کہ زمبابوے ’دو معیشتوں کی کہانی بن چکا ہے۔ ایک معیشت بااثر لوگوں کی ہے اور دوسری معیشت محروم طبقات کی ہے۔
یہ بحث بدعنوانی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے پس منظر میں جاری ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنے سال 2025 کے کرپشن پرسیپشنز انڈیکس میں زمبابوے کو 100 میں سے صرف 22 پوائنٹس دیے اور 182 ممالک میں اسے 157 ویں نمبر پر رکھا۔




