چین اور بھارت کی سرحد پر جھڑپیں، چینی فوج کے بھارتی علاقے میں خیمے نصب

لداخ ہمالیہ کے دور افتادہ پہاڑی علاقے میں چین اور بھارتی فوج کے درمیان کشیدگی ، سرحد پر شدید جھڑپیں ، چینی فوج نے بھارتی علاقے پر قبضہ کرکے اپنے خیمے نصب کردیئے ۔

چین کے ساتھ نئی کشیدگی کی اطلاع کے بعد بھارتی وزارتِ خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا، کہا کہ چین کیساتھ متنازع سرحد پر امن اور استحکام دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کیلئے انتہائی اہم ہے۔

روئٹرز کے مطابق بھارت کی وزارتِ خارجہ کا یہ بیان ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں اس معاملے پر دوسرا بیان ہے۔

انڈیا اور چین 2020 میں سرحدی جھڑپوں کے بعد تعلقات میں آنے والی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے بعد چین کا بھی بھارت کو منہ توڑ جواب اروناچل پردیش کےدیہاتوں، دریاؤں اور جھیلوں سمیت 30 مقامات کے نام تبدیل

ترجمان بھارتی وزارتِ خارجہ رندھیر جیسوال نے بریفنگ کے دوران انکشاف کیا کہ دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں سے متعلق معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔ سرحدی صورتحال دونوں ممالک کے وسیع تر دوطرفہ تعلقات کی صورتحال پر اثر انداز ہوگی۔

بھارت اور چین کی فوجوں کے درمیان نئی مبینہ کشیدگی سے متعلق سوال کے جواب میں یہ بیان سامنے آیا۔ چین کی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع نے معاملے پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ بھارت ویب سائٹ نے انڈیا کی وزارتِ خارجہ کی بریفنگ کے بعد رپورٹ کیا کہ جولائی کے اواخر میں انڈین اور چینی فوج کے گشت کرنے والے دستے کے ضلع اپر سوبنسری میں واقع دور افتادہ سرحدی گاؤں تکسنگ کے قریب آمنے سامنے آگئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ مشرقی ہمالیہ میں بھارت کنٹرول والے علاقے کے تقریباً آڑھائی کلومیٹر اندر پیش آیا، جس کے بعد چینی اہلکار واپس چلے گئے۔ تاہم رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اگست کے آغاز میں چینی اہلکار دوبارہ اس علاقے میں آئے اور وہاں دو خیمے بھی نصب کیے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے بعد چین کا کرارا وار، بھارت کو ایک اور جھٹکا

یاد رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان تقریباً تین ہزار 488 کلومیٹر طویل متنازع سرحد ہے، جہاں دونوں ممالک کے گشت کرنے والے فوجہ دستے کا آمنے سامنے آنا غیر معمولی نہیں، تاہم ایسا اکثر نہیں ہوتا۔

سن 2020 میں مغربی ہمالیہ میں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 20 انڈین فوجی اور چار چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد نئی دہلی اور بیجنگ کے تعلقات شدید متاثر ہوئے۔ اس کے بعد دونوں ممالک نے سرحد پر دسیوں ہزار فوجی اور بھاری عسکری سازوسامان تعینات کردیا تھا۔