عالمی منڈی میں جمعرات کو سونے کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بڑی وجہ امریکہ میں افراطِ زر کے توقعات سے کم رہنے والے اعداد و شمار ہیں۔ مہنگائی کے دباؤ میں نسبتاً کمی کے باعث رواں ماہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں مزید اضافے کے امکانات کم ہوئے ہیں، جس سے سونے کی طلب کو سہارا ملا۔
رپورٹس کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت تقریباً 0.5 فیصد اضافے کے بعد 4 ہزار 175 سے 4 ہزار 182 ڈالر فی اونس کے قریب رہی، جبکہ دسمبر کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4 ہزار 204.80 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئے۔
امریکی افراطِ زر اور شرحِ سود کی صورتحال:
امریکی افراطِ زر کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اگست میں صارف قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر 0.4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سالانہ افراطِ زر کی شرح 3.4 فیصد رہی۔ بنیادی افراطِ زر، جس میں خوراک اور توانائی کی قیمتیں شامل نہیں ہوتیں، سالانہ بنیاد پر 2.4 فیصد رہی۔
افراطِ زر کے نسبتاً نرم اعداد و شمار کے بعد مارکیٹ میں یہ توقع کم ہوئی ہے کہ فیڈرل ریزرو اکتوبر میں شرحِ سود میں مزید اضافہ کرے گا۔ رائٹرز کے مطابق شرحِ سود میں اکتوبر کے اضافے کا مارکیٹ پر مبنی امکان اعداد و شمار سے قبل تقریباً 45 فیصد تھا جو کم ہوکر تقریباً 38 فیصد رہ گیا۔ تاہم دسمبر میں شرحِ سود میں اضافے کے امکانات بدستور بہت زیادہ دیکھے جارہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سونے اور چاندی کی قیمتوں میں 3 روزہ وقفے کے بعد نمایاں اضافہ
شرحِ سود کے حوالے سے توقعات سونے کی قیمت کے لیے اہم ہیں کیونکہ سونا کوئی سود یا منافع ادا نہیں کرتا۔ جب شرحِ سود اور بانڈز کی ییلڈز بڑھتی ہیں تو سرمایہ کاروں کے لیے سود دینے والے اثاثے نسبتاً پرکشش ہوجاتے ہیں، جبکہ شرحِ سود میں اضافے کے امکانات کم ہونے سے سونے کو سہارا مل سکتا ہے۔
ڈالر کی پوزیشن اور دیگر قیمتی دھاتیں:
دوسری جانب امریکی ڈالر دو ماہ کی بلند سطح کے قریب موجود رہا، جس نے سونے کی قیمت میں اضافے کو کسی حد تک محدود کیا۔ مضبوط ڈالر کے باعث دیگر کرنسیوں میں خریداری کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے ڈالر میں قیمت والا سونا نسبتاً مہنگا ہوجاتا ہے۔
سرمایہ کار اب امریکہ کے آئندہ روزگار کے اعداد و شمار پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ روزگار کی صورتحال فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم اشارہ فراہم کرسکتی ہے۔ مارکیٹ میں شرحِ سود سے متعلق توقعات کے ساتھ امریکی بانڈ ییلڈز اور ڈالر کی سمت بھی سونے کی قیمت کے لیے اہم عوامل رہیں گے۔
سونے کے علاوہ دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی تیزی دیکھی گئی۔ اسپاٹ سلور تقریباً 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 61.11 ڈالر فی اونس پلاٹینم 0.7 فیصد اضافے کے بعد 1 ہزار 717.35 ڈالر جبکہ پیلاڈیم 0.3 فیصد بڑھ کر 1 ہزار 207.12 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔
یوں عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں تازہ اضافہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرمایہ کار امریکی مہنگائی روزگار کے اعداد و شمار، ڈالر اور فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرحِ سود پالیسی کے اشاروں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پاکستان میں سونے کی مقامی قیمت پر عالمی ریٹ کے ساتھ ڈالر کی قدر اور مقامی صرافہ مارکیٹ کے رجحان کا بھی اثر پڑتا ہے۔




