باسمتی ورڈ مارک کیس، آسٹریلوی عدالت کا پاکستان کے حق میں فیصلہ،بھارتی ادارے اپیڈا کی اپیل خارج

سڈنی(کشمیر ڈیجیٹل) آسٹریلیا میں بھارت کو ایک اور بڑی سبکی کا سامنا، باسمتی کے نام پر بھارتی اجارہ داری کی کوشش ناکام ،پاکستان کو بڑی قانونی فتح مل گئی ۔

ذرائع کے مطابق آسٹریلوی وفاقی عدالت نے باسمتی ورڈ مارک کیس میں بھارتی ادارے اپیڈا کی اپیل خارج کر دی۔

باسمتی کیس میں آسٹریلوی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے اصولی اور مسلسل مؤقف کی توثیق ہے، عدالت نے بھارتی ادارے اپیڈا کو فریقِ مخالف کے قانونی اخراجات ادا کرنے کا بھی حکم دے دیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آنکھوں پر چشمہ ضروری:27 سال بعدآج نایاب سورج گرہن دیکھا جائےگا

بھارتی ادارے اپیڈا نے آسٹریلیا میں باسمتی کے لفظ کو بطور سرٹیفکیشن ٹریڈ مارک رجسٹر کرانے کی درخواست دی تھی، آسٹریلوی رجسٹرار آف ٹریڈ مارکس نے 22 دسمبر 2022 کو بھارتی درخواست مسترد کر دی تھی۔

بھارتی ادارے ’اپیڈا‘ نے آسٹریلیا میں چاول کے لیے ‘باسمتی’ کا لفظ بطور سرٹیفیکیشن ٹریڈ مارک رجسٹر کرنے کی درخواست دی تھی۔

آسٹریلین رجسٹرار آف ٹریڈ مارکس کے ایک نمائندے نے 22 دسمبر 2022 کو یہ درخواست اس بنیاد پر رد کر دی تھی کہ لفظ ‘باسمتی’ اپیڈا کے تصدیق شدہ چاول کو دیگر تاجروں کے قانونی طور پر تیار اور فروخت کردہ باسمتی چاول سے الگ ممتاز نہیں کر سکتا۔

بعد ازاں اپیڈا نے اس فیصلے کو آسٹریلیا کی فیڈرل کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔وزارتِ تجارت کے مطابق آسٹریلوی حکام پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں کہ باسمتی چاول پاکستان میں بھی پیدا ہوتا ہے۔۔

پاکستانی تاجروں اور برآمد کنندگان کو باسمتی کا نام استعمال کرنے کا مساوی اور جائز حق حاصل ہے۔وفاقی عدالت کے فیصلے سے باسمتی پر پاکستان کے تاریخی اور جغرافیائی حق کو تقویت ملی۔۔

باسمتی ایک تاریخی طور پر تسلیم شدہ خطے کی پیداوار ہے جو پاکستان اور بھارت کے علاقوں پر مشتمل ہے، کوئی ایک ملک یا قومی ادارہ باسمتی کے نام پر خصوصی اور اجارہ دارانہ حق کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت سازی کے خلاف پیپلز پارٹی کا عدالت جانے کا فیصلہ، زرداری ہاؤس میں اہم اجلاس

آسٹریلوی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے باسمتی کاشتکاروں، ملرز اور برآمد کنندگان کے لیے اہم کامیابی ہے، فیصلے سے پاکستانی باسمتی کے تجارتی اور دانشورانہ املاک کے حقوق کا تحفظ ہوا ہے۔ پاکستانی برآمد کنندگان آسٹریلیا میں مستند پاکستانی باسمتی کی مارکیٹنگ کا حق برقرار رکھیں گے۔

وزارتِ تجارت عالمی منڈیوں میں باسمتی کے نام پر بھارتی اجارہ داری کی کوششوں کی مسلسل مخالفت کرتی رہی ہے۔ پاکستان باسمتی کو اپنی زرعی وراثت اور برآمدی شناخت کے اہم حصے کے طور پر تحفظ فراہم کرتا رہے گا۔

بیرونِ ملک باسمتی کے تحفظ کے لیے اس کی تاریخی اصل، مسلمہ شہرت اور منفرد خصوصیات کی بنیاد پر اقدامات جاری رکھیں گے۔پاکستان کی اہم قانونی کامیابی پر، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے وزارتِ تجارت کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے پاکستان کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے وزارتِ تجارت کی ٹیم کی انتھک کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

وزارتِ تجارت بین الاقوامی منڈیوں میں باسمتی کے نام پر ایکسکلوژو (منفرد) حقوق کے بھارتی دعوؤں کی مسلسل مخالفت کرتی رہی ہے اور پاکستان کے جائز مفادات کے تحفظ کے لیے متعلقہ قومی اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کے باسمتی کاشتکاروں، ملرز اور برآمد کنندگان کے تجارتی اور انٹلیکچوئل پراپرٹی (دانشورانہ ملکیت) کے مفادات کا تحفظ ہوا ہے اور آسٹریلیا میں اصلی پاکستانی باسمتی فروخت کرنے کا ان کا حق برقرار رہا ہے۔

وزارت تجارت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ پاکستان کے زرعی ورثے اور برآمدی شناخت کے اہم حصے کے طور پر باسمتی کا تحفظ جاری رکھے گی اور تاریخی اصل، قائم شدہ ساکھ اور مخصوص خصوصیات کی بنیاد پر بیرونی دائرہ اختیار میں اس کے تحفظ کا تعاقب کرےگی۔