پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت سازی کو عدلیہ میں چیلنج کرنے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ ریاست میں قیامِ امن کے لیے شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے مطالبے کے حق میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کر لی گئی ہے۔
اسلام آباد کے زرداری ہاؤس میں صدر پاکستان پیپلز پارٹی ویمن ونگ و انچارج پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر امور محترمہ فریال تالپور کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ عام انتخابات کو دھاندلی زدہ اور شدید پرتشدد الیکشن قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات: ایل اے 17 حویلی کا نتیجہ جاری، پیپلز پارٹی کے راجہ فیصل ممتاز راٹھور کامیاب
اجلاس کی شرکت اور الیکشن کمیشن کے کردار کی مذمت:
اجلاس میں سینئر رہنما چوہدری محمد ریاض، قائمقام صدر آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، صدر پی پی پی آزاد کشمیر چوہدری محمد یاسین، سابق صدر سردار محمد یعقوب خان، مرکزی سیکریٹری اطلاعات سردار جاوید ایوب، مرکزی سیکرٹری رابطہ عامر ذیشان جرال سمیت نو منتخب ممبرانِ قانون ساز اسمبلی میاں عبدالوحید، سید باذل نقوی، عبدالماجد خان، ظفر ملک، چوہدری یاسر سلطان، دیوان چغتائی، سردار ضیا القمر، مختار عباسی، عامر غفار لون، محمد ولید انقلابی اور انتخابات 2026 کے لیے پارٹی کے تمام نامزد امیدواروں نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران ان انتخابات کو آزاد کشمیر کی جمہوری و پارلیمانی تاریخ کے بدترین انتخابات قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ الیکشن کرانے کے عمل اور کردار کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی اجلاس میں انٹرنیٹ کی بندش، پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ میٹریل اور عملے کی غیر موجودگی سمیت سیکیورٹی کے ناقص انتظامات پر بھی شدید سوالات اٹھائے گئے۔
مرحلہ وار انتخابات پر تحفظات اور بقیہ حلقوں کا مطالبہ:
اجلاس میں مرحلہ وار انتخابات کرانے کے طریقہ کار کو جمہوری سسٹم کے منافی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے باضابطہ مطالبہ کیا گیا کہ تیسرے مرحلے کے باقی دو اضلاع اور پونچھ کے بقیہ سات حلقوں کے الیکشن کو فی الفور مکمل کیا جائے تاکہ قانون ساز اسمبلی مکمل طور پر معرضِ وجود میں آ سکے اور جمہوری و پارلیمانی نظام کی آئینی حیثیت بحال ہو۔
اس موقع پر اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور محترمہ فریال تالپور کی بھرپور معاونت اور انتھک کوششوں کو سراہا گیا جبکہ پارٹی کے دیگر مرکزی رہنماؤں کی رہنمائی پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا گیا۔
محترمہ فریال تالپور کا خطاب اور آئندہ کی حکمت عملی:
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ فریال تالپور نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے اور موجودہ دھونس و دھاندلی سے بھرپور انتخابات کے باوجود عوام کی بھرپور حمایت سے یہ کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ انہوں نے نومنتخب ممبرانِ اسمبلی کو مبارکباد پیش کی اور ان تمام ٹکٹ ہولڈرز کو خصوصی طور پر سراہا جنہوں نے سنگین ترین حالات کے باوجود محنت اور نظریاتی بنیادوں پر تعمیر و ترقی کے نام پر ووٹ حاصل کیے۔
فریال تالپور نے زور دے کر کہا کہ پارٹی کارکنان ہی ہماری اصل طاقت ہیں، اس لیے ہر سطح پر تنظیم کو مزید فعال، تحرک پذیر اور مضبوط بنایا جائے اور عوام کے ساتھ رابطوں کو باقاعدہ اور مؤثر رکھا جائے۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی کہ بقیہ سات حلقوں میں انتخابی تیاریوں کو مزید تیز کیا جائے، کیونکہ پیپلز پارٹی کی سیاست عوامی خدمت، جمہوریت، ترقی اور حقوق کے تحفظ پر مبنی ہے۔
اجلاس کے اختتام پر دورانِ انتخابی عمل شہید ہونے والے افراد کے لیے دعائے مغفرت کی گئی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا مانگی گئی۔ اس موقع پر تمام رہنماؤں نے “حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار” کے نعرے اور سلوگن کے تحت آنے والے تمام انتخابات میں بھی بھرپور کامیابی حاصل کرنے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔




