بلوچستان : سوراب میں خودکش گاڑی پھٹنے اور آپریشن ردالفتنہ 3 میں مجموعی طور پر 22 دہشت گرد ہلاک

بلوچستان کے علاقے سوراب میں خودکش گاڑی کی تیاری کے دوران ہونے والے شدید دھماکے اور صوبے بھر میں آپریشن ’’ردالفتنہ 3‘‘ کے تحت کی گئی سیکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 22 دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں۔

کوئٹہ اور سوراب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات دہشت گرد ایک گاڑی میں بارودی مواد نصب کر کے اسے خودکش حملے کے لیے تیار کر رہے تھے کہ اسی اثنا میں ناگہانی دھماکا ہو گیا، جس سے ابتدائی اطلاعات کے مطابق 22 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں: آپریشن ردالفتنہ 3: بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 19 دہشت ہلاک

سوراب دھماکا اور عام شہریوں کو پہنچنے والا نقصان:

خودکش گاڑی کی تیاری کے دوران ہونے والے اس زبردست دھماکے کے شدید اثرات کے باعث قریب واقع گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے، جبکہ علاقے میں موجود بعض عام شہریوں کے جانی نقصان کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ تاہم شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد کے بارے میں تصدیق کی جا رہی ہے۔

واقعے کے فوراً بعد لیویز اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے کارروائی شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق موقع سے فرار ہونے والے دیگر دہشت گردوں اور ان کے مبینہ سہولت کاروں کا تعاقب مسلسل جاری ہے۔

آپریشن ’’ردالفتنہ 3‘‘ کے تحت سیکیورٹی فورسز کا کریک ڈاؤن:

دوسری جانب، 12 اگست 2026 کو بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ’’ردالفتنہ 3‘‘ کے تحت سیکیورٹی فورسز کا بڑا کریک ڈاؤن جاری رہا، جس میں اب تک مجموعی طور پر 22 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

قابلِ اعتماد انٹیلی جنس اطلاع پر کلات کے علاقے روڈینجو کراس میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) کیا گیا، جہاں ایک گاڑی میں سوار کالعدم تنظیم کے 5 دہشت گردوں کی موجودگی پر کارروائی کرتے ہوئے تمام 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

خضدار اور سوراب میں جاری سیکیورٹی آپریشنز کی تفصیلات:

اس سلسلے میں دوسری اہم کارروائی خضدار کے علاقے کنارو میں عمل میں لائی گئی، جہاں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن شروع کیا۔ فائرنگ کے شدید تبادلے کے نتیجے میں 4 مزید دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

اسی طرح، ضلع سوراب میں بھی مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر ایک الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن انجام دیا گیا، جہاں 10 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام علاقوں میں کلیئرنس اور تلاش کا آپریشن آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔