امریکا نے1لاکھ 75 ہزار غیرملکیوں کے ویزے منسوخ کر دیئے، وجہ کیا بنی؟

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق صدر ٹرمپ کے دورِ حکومت میں اس نے ایسے غیر ملکی شہریوں کے ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد ویزے منسوخ کیے ہیں جنہوں نے اپنے ویزے کی شرائط کی خلاف ورزی کی، جرائم کا ارتکاب کیا، امریکی شہریوں کے خلاف تشدد کی اپیل کی، امریکیوں کو دھوکہ دیا، امیگریشن نظام کا غلط استعمال کیا یا قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔

سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائیٹ پر جاری اعلامیے کے مطابق ان ویزوں کی اکثریت مختلف نوعیت کی مجرمانہ سرگرمیوں کے سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پیش آنے والے معاملات کی وجہ سے منسوخ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:ایک سال میں 72ہزار پاکستانیوں کے وزٹ ویزے مسترد،برطانیہ نے 9.2 ملین پاؤنڈ کمالئے

ان میں حملہ، نشے کی حالت میں گاڑی چلانا، چوری اور منشیات سے متعلق جرائم نمایاں وجوہات تھے۔ ویزوں کی ایک بڑی تعداد لاپرواہی سے گاڑی چلانے، جنسی حملے، بچوں سے بدسلوکی، فراڈ، خرد برد اور دیگر جرائم کی وجہ سے بھی منسوخ کی گئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ویزے محکمہ خارجہ کی مسلسل جانچ پڑتال کے نتیجے میں منسوخ کیے گئے ہیں۔ اس عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ویزا حاصل کرنے والے افراد اپنے ویزے کی شرائط پر عمل کریں اور امریکی شہریوں کے لیے خطرہ نہ بنیں۔

اعلامیے کے مطابق محکمہ خارجہ نے ایسے مجرم غیر ملکی شہریوں کے ویزے منسوخ کیے جو امریکی شہریوں کے لیے خطرہ بنے، امریکیوں کے خلاف تشدد کی حمایت کی، غیر قانونی ’برتھ ٹورزم‘ یعنی بچے کی پیدائش کے مقصد سے امریکہ آنے کے منصوبے بنائے یا فراڈ میں ملوث رہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک منسوخ کئے گئے ویزہ ہولڈرز میں ایک غیر ملکی شہری پر سنگین نوعیت کے ریپ اور جنسی زیادتی کے الزامات عائد تھے، جن میں ایک ذہنی معذوری کا شکار متاثرہ شخص بھی شامل تھا۔

ایک غیر ملکی شہری پر سنگین نوعیت کے اغوا، انسانی سمگلنگ اور ایک کم عمر بچے کے جنسی استحصال کے الزامات تھے۔ ایک اور غیر ملکی شہری کو بدامنی پھیلانے، مزاحمتِ گرفتاری کے دوران تشدد، نشے کی حالت میں گاڑی چلانے اور گھریلو تشدد کے الزامات میں گرفتار کیا گیا۔

بیان کے مطابق شمالی افریقہ میں واقع ایک امریکی سفارت خانے نے 100 سے زائد ایسے والدین کے ویزے منسوخ کیے جو بنیادی طور پر اس مقصد سے امریکہ آئے تھے کہ وہاں بچے کو جنم دیں تاکہ اسے امریکی شہریت مل سکے۔

اعلامیے کے مطابق متعدد غیر ملکی شہریوں نے چارلی کرک کے قتل پر خوشی کا اظہار کیا جس پر ویزے منسوخ کئے گئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے ایک شخص نے کہا ’جب فاشسٹ مرتے ہیں تو ڈیموکریٹس شکایت نہیں کرتے،‘جبکہ دوسرے نے کہا کہ ’وہ بہت دیر سے مرا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خارجہ پالیسی کی بنیاد پر متعدد غیر ملکی شہریوں کو ملک بدری کے قابل قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عمان کا بڑا سرپرائز، 14 دن کا سیاحتی ویزا بالکل مفت کرنے کا باضابطہ اعلان

ان میں کیوبا کا ایک شہری شامل ہے جس کے روابط کیوبا کی کمیونسٹ حکومت کے اثر و رسوخ کی کارروائی سے تھے، ایرانی حکومت سے روابط رکھنے والے ایرانی شہری، لاؤس کا ایک ایسا شہری جو بچوں کے جنسی استحصال کا مجرم تھا اور جسے مینیسوٹا کے گورنر ٹم والز نے معافی دی تھی اور کویت کا ایک شہری شامل ہے جس نے امریکی صدر کے خلاف تشدد کی خواہش کا اظہار کیا اور امریکیوں کو اپنا ’دشمن‘ قرار دیا۔

صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ روبیو کی قیادت میں محکمہ خارجہ ایسے غیر ملکی شہریوں کی شناخت، تحقیقات اور ان کے ویزوں کی منسوخی کا عمل جاری رکھے گا جو امریکی عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔