انگلیاں چٹخانا ایک ایسی عادت ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں افراد میں پائی جاتی ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ ذہنی سکون کا ذریعہ ہے جبکہ بعض افراد اسے محض ایک غیر اختیاری عادت کے طور پر اپنائے رکھتے ہیں۔ تاہم، اکثر لوگوں کو بچپن سے ہی اپنے گھر کے بڑوں سے یہ تنبیہ سننے کو ملتی ہے کہ مسلسل انگلیاں چٹخانے سے جوڑ خراب ہو جائیں گے یا انہیں گٹھیا (آرتھرائٹس) کا مرض لاحق ہو جائے گا۔ لیکن سائنسی حقائق اور طبی تحقیقات اس حوالے سے ایک بالکل مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔
50 سالہ عجیب و غریب تجربہ اور سائنسی نتیجہ :
اس مشہور مفروضے کی حقیقت جاننے کے لیے ڈونلڈ اَنگر نامی ایک ماہر نے ایک دلچسپ اور انوکھا تجربہ کیا۔ انہیں بچپن میں والدہ، خالاؤں اور بعد میں ساس کی جانب سے یہ تنبیہ کی جاتی رہی کہ انگلیاں چٹخانے سے گٹھیا ہو جاتا ہے۔ اس بات کو غلط ثابت کرنے کے لیے انہوں نے مسلسل 50 برسوں تک روزانہ کم از کم دو بار صرف اپنے بائیں ہاتھ کی انگلیاں چٹخائیں، جس کا مجموعہ تقریباً 36,500 بار بنتا ہے۔ اس تمام عرصے کے دوران انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کے جوڑوں کو بالکل نہیں چٹخایا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی صحت تشویشناک: کینسر ہڈیوں سے آگے پھیل گیا،ہنٹر بائیڈن
سنہ 1998 میں 72 برس کی عمر میں انہوں نے دونوں ہاتھوں کے ایکس رے کروائے۔ نتائج کے مطابق ان کے کسی بھی ہاتھ میں آرتھرائٹس کی کوئی علامت موجود نہیں تھی اور نہ ہی دونوں ہاتھوں کی جوڑوں کی حالت میں کوئی واضح فرق دیکھا گیا۔ اگرچہ یہ مشاہدہ ایک فرد پر مبنی تھا، مگر بعد میں کی جانے والی دیگر طبی تحقیقات نے بھی اسی بات کی تصدیق کی کہ انگلیاں چٹخانے اور گٹھیا کے درمیان کوئی سائنسی تعلق نہیں پایا جاتا۔
جوڑ چٹخاتے وقت آواز کیوں پیدا ہوتی ہے؟
طبی سائنس کے مطابق ہماری انگلیوں، گردن اور کمر کے جوڑوں میں جہاں دو ہڈیاں ملتی ہیں، وہاں ‘سائنوویئل فلوئیڈ’ (Synovial Fluid) نامی ایک مائع موجود ہوتا ہے۔ یہ مائع انڈے کی سفیدی کی مانند چکناہٹ فراہم کرتا ہے تاکہ جوڑ آسانی سے حرکت کر سکیں۔
جب کوئی شخص اپنے جوڑوں کو موڑتا یا کھینچتا ہے تو جوڑ کے اندرونی حصے کی جگہ عارضی طور پر پھیل جاتی ہے۔ اس پھیلاؤ سے سائنوویئل فلوئیڈ کا دباؤ کم ہوتا ہے اور اس میں حل شدہ گیسیں بلبلوں کی صورت میں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ جوڑ چٹخنے پر پیدا ہونے والی آواز دراصل انہی بلبلوں کے پھٹنے یا سکڑنے کی ہوتی ہے، جو بسا اوقات 83 ڈیسی بیل تک بلند ہو سکتی ہے۔
کیا جوڑ چٹخانا نقصان دہ ہو سکتا ہے؟
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ انگلیاں چٹخانے سے گٹھیا کا خطرہ نہیں ہوتا، لیکن اسے بہت زیادہ شدت یا زور زبردستی سے کرنا جوڑوں کے اطراف موجود نرم ٹشوز اور رباط (Ligaments) کو عارضی نقصان پہنچا سکتا ہے، جس سے ہاتھوں میں سوجن یا پکڑ میں معمولی کمی آ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کا بھارت کے متبادل کے طور پر پاکستان سے رجوع، اہم امور جلد طے پا جائیں گے، بنگلہ دیشی ہائی کمشنر
ماہرینِ صحت مشورہ دیتے ہیں کہ اگر جوڑ چٹخانے کے دوران یا بعد میں شدید درد، سوجن یا سرخی محسوس ہو تو یہ محض گیس کے بلبلوں کا عمل نہیں بلکہ جوڑوں کے کسی دوسرے مسئلے کی علامت ہو سکتی ہے، جس کے لیے معالج سے رجوع کرنا ضروری ہے۔




