اسلام آباد :بنگلہ دیش نے سالانہ بیرونِ ملک علاج کے لیے جانے والے اپنے تقریباً 8 لاکھ مریضوں اور 6 ارب ڈالر سے زیادہ کی بھاری بھرکم طبی اخراجات کی مارکیٹنگ کے لیے بھارت کے متبادل کے طور پر پاکستان کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں آسان ویزا پالیسی، بہتر فضائی رابطوں اور پاکستانی اسپتالوں تک آسان رسائی کے لیے دونوں ممالک کے حکام کے درمیان اعلیٰ سطح پر اہم رابطے کیے گئے ہیں۔
علاقائی سیاست اور 2024 کی سیاسی تبدیلی کے اثرات:
واضح رہے کہ تاریخی طور پر بنگلہ دیشی مریض بہتر قربت، سستے علاج اور دیرینہ اسپتالوں کے روابط کی وجہ سے علاج کے لیے طویل عرصے سے بھارت کا رخ کرتے رہے ہیں۔ تاہم، اگست 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے اور اس کے بعد ڈھاکہ اور نئی دہلی کے درمیان کشیدہ تعلقات کے ساتھ ساتھ بھارتی ویزا خدمات پر لگنے والی پابندیوں نے میڈیکل ٹریول کے اس روایتی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس سیاسی تبدیلی نے دونوں برادر اسلامی ممالک یعنی پاکستان اور بنگلہ دیش کے لیے باہمی تعلقات بہتر بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون وسعت دینے کے نئے دروازے کھول دیے ہیں، جس کا تازہ ترین مظہر طبی سیاحت کا یہ شعبہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئی دہلی میں شیخ حسینہ کی میڈیا گفتگو پر بنگلہ دیش شدید برہم، بھارتی اقدام کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دے دیا
اعلیٰ سطح کے مذاکرات اور پاکستان کی یقین دہانی:
بنگلہ دیشی ہائی کمشنر نے وفاقی سیکرٹری صحت اور وزیراعظم کے صحت کارڈ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے ساتھ ایک اہم ملاقات میں اپنے ملک کی آؤٹ باؤنڈ ہیلتھ کیئر مارکیٹ کے اعداد و شمار کا تبادلہ کیا۔ ملاقات کے دوران بنگلہ دیشی فریق نے مطالبہ کیا کہ ان کے مریضوں کو ویزا کے حصول میں آسانی دی جائے، فضائی رابطے بہتر بنائے جائیں اور ایسے موثر میکانزم بنائے جائیں جن کی مدد سے ان کے مریض پاکستان کے معیاری صحت کے اداروں تک باآسانی رسائی حاصل کر سکیں۔
وفاقی سیکرٹری صحت نے ہائی کمشنر کو پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وزارت صحت متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر طبی سفر میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔ دونوں فریقوں نے صحت، ہیلتھ ٹورزم اور یونیورسل ہیلتھ کوریج کے شعبوں میں ایک ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دینے کے لیے پاک بنگلہ دیش ہیلتھ کوآپریشن میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کا ‘ہیل ان پاکستان’ اقدام اور کاروباری مواقع:
وزیراعظم کے صحت کارڈ پروگرام کے سربراہ کے مطابق، بنگلہ دیش کے 8 لاکھ مریض اور 6 ارب ڈالر کی سالانہ ہیلتھ کیئر مارکیٹ پاکستان کے لیے میڈیکل ٹورزم کا ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر پاکستان اس مارکیٹ کا صرف چوتھا حصہ یعنی تقریباً 2 لاکھ مریضوں کو بھی اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے لگ بھگ 1.5 ارب ڈالر کی آمدنی متوقع ہے۔
پاکستان حکومت کے ‘ہیل ان پاکستان’ اقدام کے تحت ایک قومی ہیلتھ ٹورزم پالیسی اور روڈ میپ تیار کر رہا ہے، جس کے تحت بنگلہ دیش میں ہیلتھ کیئر روڈ شو منعقد کرنے کا بھی منصوبہ ہے تاکہ پاکستانی اسپتالوں، طبی ماہرین اور جدید سہولتوں کو متعارف کرایا جا سکے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں ایک مریض سہولت کاری اور شکایات کے ازالے کا نظام بھی بنایا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ صحت کارڈ پروگرام کے تجربات شیئر کرنے کی بھی پیشکش کی ہے۔
ماہرین کی آرا، عالمی مثالیں اور مستقبل کا منظرنامہ:
میڈیکل ٹورزم کے ماہر ڈاکٹر زاکی الدین احمد نے اس پیشرفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انتہائی تربیت یافتہ ڈاکٹروں، ماہرین اور کم لاگت میں جدید ترین علاج کی سہولت فراہم کرنے والے اسپتالوں کی بدولت بنگلہ دیشی مریضوں کے لیے ایک بہترین متبادل ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ملک میں ایک منظم بین الاقوامی مارکیٹنگ کی حکمت عملی اپنائی جائے۔ انہوں نے ترکیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ طبی مہارت کے ساتھ ساتھ آسان میڈیکل ویزا، بہترین فضائی روابط اور اسپتالوں کی بین الاقوامی تسلیم شدگی کامیابی کے لیے ناگزیر ہیں۔
مزید پڑھیں: آئی جی آزاد کشمیر کا خطاب: کالعدم ایکشن کمیٹی کا مذموم ایجنڈا اور مظالم بے نقاب
بنگلہ دیش کا بھارت کے بجائے پاکستان کی طرف رخ کرنا محض طبی انتخاب نہیں ہے، بلکہ یہ اس خطے میں بدلتی ہوئی سیاسی صف بندیوں کا ایک گہرا عکاس ہے۔ پاکستان کے پاس طبی شعبے میں بے پناہ ٹیلنٹ اور عالمی معیار کے ادارے موجود ہیں، لیکن بین الاقوامی سطح پر اس کی مارکیٹنگ کا فقدان ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے۔ اگر پاکستان بنگلہ دیشی مریضوں کے لیے ویزا کے حصول کو واقعی آسان بناتا ہے اور ایئرلائنز کے ذریعے براہ راست رابطے بحال کرتا ہے، تو یہ نہ صرف دونوں ممالک کے معاشی اور تجارتی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، بلکہ پاکستان کی ہیلتھ انڈسٹری کو بھی زبردست زرمبادلہ اور فروغ ملے گا۔




