آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے تیسرے مرحلے میں پونچھ ڈویژن کے دو اضلاع کی چار نشستوں پر آج صبح سے پولنگ کا عمل بلا تعطل جاری ہے۔ ان انتخابات میں چار لاکھ 60 ہزار سے زیادہ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، جبکہ ان چاروں انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 82 امیدوار انتخابی میدان میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام پولنگ اسٹیشنز پر انتخابی عمل کو منظم بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف آزاد جموں و کشمیر کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔ پولنگ کا وقت ختم ہوتے ہی ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع کر دیا جائے گا جس کے بعد غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج سامنے آ جائیں گے، جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے باضابطہ اور سرکاری نتائج کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ اس تیسرے مرحلے کے دوران ضلع باغ کے تین انتخابی حلقوں غربی باغ، وسطی باغ اور شرقی باغ میں جبکہ ضلعی حویلی کے واحد انتخابی حلقے میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر انتخابات تیسرامرحلہ، 3سابق وزرائےا عظم کا سیاسی مستقبل دائو پر،حیران کن اعداد وشمار آگئے
الیکشن کمیشن کے اقدامات اور چیف الیکشن کمشنر کا بیان:
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام انتخابی حلقوں میں پولنگ کے عمل کو پرامن، شفاف اور غیر جانبدار بنانے کے لیے درکار انتخابی عملہ، سیکیورٹی اہلکار اور ضروری انتخابی سامان متعلقہ تمام پولنگ اسٹیشنز پر بروقت پہنچا دیا گیا تھا۔ پولنگ اسٹیشنز کے اطراف اور حساس مقامات پر سیکیورٹی کے سخت اور جامع انتظامات کیے گئے ہیں جہاں سیکیورٹی اہلکار مسلسل تعینات ہیں اور انتخابی عمل کی نگرانی بلا تعطل کی جا رہی ہے تاکہ شہری بلا خوف و خطر اپنا ووٹ ڈال سکیں۔
آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے اپنے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ سیکیورٹی وجوہات اور خطے کی موجودہ صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے فی الوقت صرف باغ اور حویلی کی چار نشستوں پر انتخابی عمل مکمل کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ 7 ایام کے دوران پونچھ ڈویژن کے دیگر اضلاع یعنی راولاکوٹ اور سدھنوتی کے باقی ماندا 7 حلقوں میں بھی انتخابات کی نئی تاریخ کا اعلان کیے جانے کا قوی امکان ہے، تاہم ان ملتوی شدہ حلقوں کے تمام امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے کے لیے مناسب اور پورا وقت فراہم کیا جائے گا۔
پونچھ ڈویژن میں امیدواروں کے درمیان مقابلے کی صورت حال:
انتخابی حلقوں کے تفصیلی جائز کے مطابق کون کس کے مدمقابل ہے، اس کی صورت حال درج ذیل ہے:
ضلع باغ کا پہلا حلقہ ایل اے 14 غربی باغ ہے، جہاں 2021 کے عام انتخابات میں ریستائی جماعت مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد نے 25 ہزار 389 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس بار ان کا بنیادی مقابلہ عوامی دست و بازو کے امیدوار سردار ساجد اقبال سے ہو رہا ہے اور یہاں انتہائی کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ جماعت اسلامی نے بھی اس حلقے میں سردار ساجد اقبال کی حمایت کا باضابطہ اعلان کر رکھا ہے۔
ضلع باغ کے دوسرے حلقے ایل اے 15 وسطی باغ سے 2021 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ٹکٹ ہولڈر سردار تنویر الیاس نے 19 ہزار 825 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار ضیا قمر 14 ہزار 558 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ اس مرتبہ اس حلقے میں ایک انتہائی ڈرامائی صورت حال پیدا ہو چکی ہے، جہاں سردار تنویر الیاس اس بار استحکام پاکستان پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ رہے ہیں، جبکہ سردار ضیا القمراپنی پرانی جماعت پیپلز پارٹی کے امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) نے مشتاق منہاس کو اپنا ٹکٹ جاری کیا ہے اور بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر محمد خان جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، جس کی وجہ سے اس حلقے میں چاروں مضبوط ترین امیدوار آمنے سامنے ہیں اور شدید مقابلہ متوقع ہے۔
باغ کے تیسرے حلقے ایل اے 16 شرقی باغ سے گزشتہ 2021 کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدوار سردار میر اکبر نے 23 ہزار 563 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر سردار قمر الزمان 23 ہزار 267 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئے تھے۔ سردار میر اکبر اب سیاسی تبدیلی کے بعد دوبارہ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر اس حلقے سے میدان میں اترے ہیں، اور ان کا پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار قمر الزمان کے ساتھ ایک بار پھر انتہائی کڑا مقابلہ جاری ہے۔
ضلع حویلی کہوٹہ کے واحد حلقے ایل اے 17 سے 2021 کا الیکشن موجودہ وزیراعظم راجا فیصل ممتاز راٹھور نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 30 ہزار 85 ووٹ حاصل کر کے جیتا تھا، جبکہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری عزیز 25 ہزار 421 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ اس بار موجودہ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کا مقابلہ چوہدری عزیز (مرحوم) کے فرزند چوہدری محسن عزیز سے ہے جو مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی کر رہے ہیں، اور اسے اس ڈویژن کا سب سے بڑا انتخابی مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ماضی میں پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستہ رہنے والے خواجہ طارق سعید بھی اس حلقے سے بطور آزاد امیدوار میدان میں موجود ہیں۔ اس اہم حلقے پر اس وقت پورے آزاد کشمیر کی نظریں جمی ہوئی ہیں اور فیصل راٹھور اور محسن عزیز کے درمیان سخت ترین مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: راناثناء اللہ کا بیان: مخالفین نے الیکشن سے قبل شکست تسلیم کرلی،فیصل ممتاز راٹھور
سابقہ انتخابی نتائج اور حکومت سازی کا عمل:
واضح رہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے پہلے دو مراحل کے دوران کل 34 نشستوں پر انتخابی عمل کامیابی کے ساتھ مکمل ہو چکا ہے۔ ان تمام نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) 24 نشستیں جیت کر ایوان میں سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 10 نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کر رکھی ہے۔ ان دو بڑی جماعتوں کے علاوہ دیگر تمام سیاسی جماعتیں پہلے دو مراحل میں کوئی بھی نشست جیتنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔
پونچھ ڈویژن کے ضلع راولاکوٹ کے 5 حلقوں جبکہ ضلع سدھنوتی کے 2 حلقوں میں علاقے میں امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر الیکشن فی الحال ملتوی کیے گئے ہیں۔ تاہم، الیکشن کمیشن کے مطابق آج ہونے والے ان 4 حلقوں کے انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ریاست میں حکومت سازی کا عمل مکمل کر دیا جائے گا، جس کے بعد امن و امان برقرار رہتے ہی رہ جانے والے ان 7 حلقوں میں ضمنی انتخابات کرائے جانے کا امکان ہے۔



