وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ ترکیہ کی پیٹرولیم کمپنی جلد پاکستان کی سمندری حدود میں تیل و گیس کی تلاش کیلئے کھدائی شروع کرے گی جس سے توانائی کے شعبے میں بڑی غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری لانے اور پیٹرولیم کے شعبے میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈیڈ لائن ختم: ملک گیر ہڑتال،پیٹرولیم ڈیلرز کا اہم اجلاس طلب
انہوں نے کہا کہ مائع پیٹرولیم گیس کیلئے بولیاں آ ج پیر کو کھولی جائیں گی جبکہ صارفین کی سہولت کے لیے نئے گیس کنکشنز کے اجرا کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کیے گئے مشکل معاشی فیصلوں سے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد ملی ہے اور اب توجہ ممکنہ دیوالیہ پن کی بحث سے نکل کر معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور ایران امریکا تنازع کے نتیجے میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق ان مشکلات کے باوجود حکومت نے ملک بھرمیں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی اور عالمی قیمتوں میں اضافے کے مکمل اثرات سے عوام کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ محدود مالی وسائل کے باوجود حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان اپنی توانائی کی 90 فیصد ضروریات درآمد کرتا ہے
علی پرویز ملک نے بتایا کہ پاکستان اپنی توانائی کی تقریباً 90 فیصد ضروریات درآمد کرتا ہے، جبکہ ملک میں تیل کی موجودہ پیداوار تقریباً 70 ہزار بیرل یومیہ ہے اور روزانہ طلب تقریباً 5 لاکھ بیرل ہے۔
انہوں نے کہا کہ درآمدی انحصار کم کرنے کے لیے ملک میں تیل اور گیس کی تلاش کے عمل کو تیز کرنا ہوگا۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک معروف عالمی کمپنی کو پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے جو آئندہ چند ماہ میں قومی قیادت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم قیمتوں میں کمی ، حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کردیا
انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے ریفائنری پالیسی کی منظوری دے دی ہے جبکہ پیٹرولیم کے شعبے کو درپیش دیرینہ مالی مسائل حل کرنے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔
علی پرویز ملک کے مطابق گردشی قرضے میں اضافے کا سلسلہ روک دیا گیا ہے اور گزشتہ حکومتوں سے ورثے میں ملنے والی واجب الادا رقم کی ادائیگی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔



