اسلام آباد( عامر اقبال ہاشمی سے) آزادکشمیر انتخابات کے تیسرامرحلہ کے 4اہم حلقوں میں آج پیر کے روز پولنگ ہوگی جہاں موجودہ وزیراعظم فیصل راٹھور سمیت 3سابق وزرائے اعظم کے سیاسی مستقبل کا بھی فیصلہ ہوگا۔
سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس، مسلم کانفرنس کے سربراہ اور سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان جبکہ موجودہ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور مختلف حلقوں سے انتخابی میدان میں موجود ہیں۔
ان تینوں کے لیے یہ انتخاب محض ایک نشست جیتنے کی جنگ نہیں بلکہ سیاسی ساکھ، عوامی مقبولیت اور مستقبل کی سیاست کا بڑا امتحان بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
غربی باغ
ایل اے 14غربی باغ میں سابق وزیراعظم، صدر مسلم کانفرنس سردارعتیق احمد خان کو عوامی دست وبازو پارٹی کے سربراہ سردار ساجد اقبال عباسی ٹف ٹائم دیئے ہوئے ہیں۔
سردار ساجد اقبال عباسی کے حلقہ غربی باغ کی تباہ حال سڑکوں کیلئے اپنی جیب سے کروڑوں کی فنڈنگ دی، عوام کو پانی کی سہولیات دیں، سکولوں کی عمارتیں دیں جس پر بھاری اکثریت میں عوام ان کیساتھ ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے سابق امیدوار اسمبلی میجر(ر) لطیف خلیق بھی ساجد عباسی کی حمایت کررہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سردار ساجد اقبال عباسی سردار عتیق خان کو ٹف ٹائم دیئے ہوئے ہیں جبکہ یہاں مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے امیدواروں کی پوزیشن کمزور ہے۔
2021کے الیکشن کی بات کی جائے تو یہاں سے سردار عتیق خان25,389 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار اسمبلی میجر(ر)لطیف خلیق17,056 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے، لیگی امیدوار فیصل آزاد نے 8ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے تھے۔
2016کے انتخابات میں بھی سردار عتیق خان نے 23ہزار551ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ مسلم لیگ کے افتخار ایواب 14,963اور جماعت اسلامی کے لطیف خلیق نے 13,047ووٹ لئے تھے
یوں حلقہ سے ہمیشہ سردار عتیق خان بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتے آئے ہیں لیکن اس بارانہیں کانٹے کے مقابلے کاسامنا ہے۔
وسطی باغ
ایل اے 15وسطی باغ میں بھی اس بار دلچسپ مقابلہ ہے جہاں سابق وزیراعظم سردار تنویرالیاس استحکام پاکستان پارٹی کے ٹکٹ پر ، مشتاق منہاس مسلم لیگ(ن) ،پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر سردار ضیاء القمر، جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر بریگیڈیئر (ر) محمد خان مدمقابل ہیں۔
یوں اس حلقہ میں 4مضبوط امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں ، سابق الیکشن میں حلقہ سے سردار تنویر الیاس نے 19ہزار825ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ پی پی کے ضیاء قمر14ہزار558ووٹ لے کر دوسرے، مشتاق منہاس11ہزار سے زائد ووٹ لے کر تیسرے نمبر پررہے تھے۔
حلقہ سے مسلم کانفرنس کے امیدوار راجہ یاسین خان نے بھی 9ہزار ووٹ لئے تھےلیکن اس بار راجہ یاسین خان مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ کے امیدوار تھے ، ٹکٹ نہ ملنے پر انہوں نے اور بریگیڈیئر(ر) محمد خان کی حمایت کااعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دھاندلی سے مسلط حکومت حالات خرابی کا باعث بنے گی ، چوہدری یاسین کا انتباہ
مشتاق منہاس نے بھی بھرپور مہم چلائی ہے اور مسلم کانفرنس کے امیدوار کو اپنے حق میں دستبردار کرایا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن)کی حکومت بننے جا رہی ہے اس کا بھی ان کوفائدہ حاصل ہے۔
بریگیڈیئر (ر) محمدخان کی بھی اپنی برادری بھرپور سپورٹ کررہی ہے لیکن اس بار یہاں تنویر الیاس کی پوزیشن کمزور دکھائی دے رہی ہے اور وہ مقابلہ کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
2016کے الیکشن میں وسطی باغ سے مشتاق منہاس نے 25ہزار944ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ پی ٹی آئی کے راجہ خورشید13ہزار ووٹوں کیساتھ دوسرے نمبر پر رہے تھے۔
شرقی باغ
ایل اے 16شرقی باغ اس بار بھی روایتی حریفوں سردار قمرالزمان خان اور سردار امیر اکبر کا کانٹے کامقابلہ ہے، سابق الیکشن میں سردار میر اکبر نے 400سے زائد ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی تھی۔
حویلی/فارورڈ کہوٹہ
ایل اے17حویلی فارورڈ کہوٹہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے جہاں دو برادروں ( راٹھور اورگوجر)کےامیدواروں کے مابین کانٹے کامقابلہ ہوتا ہے، اس بار وزیراعظم فیصل راٹھور کو بھی حلقہ میں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
2021کے الیکشن میں فیصل ممتاز راٹھور30ہزار852ووٹ لےکرکامیاب ہوئے تھے جبکہ لیگی امیدوار، سابق وزیر حکومت چوہدری محمد عزیز مرحوم 25ہزار734ووٹ لے کر دوسرے نمبر اورپی ٹی آئی عامر نذیر 12ہزار734ووٹ لےکر تیسرے نمبر پر رہے تھے۔
2016کے الیکشن میں چوہدری محمد عزیز 34ہزار313ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے جبکہ پی پی کے ٹکٹ پر خواجہ طارق سعید 24ہزار124ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔
موجودہ الیکشن میں وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کے اتحادی خواجہ طارق سعید آزادالیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ دوسری طرف حلقہ میں گوجربرادری کی اکثریت ہے اور مسلم لیگ(ن) کے چوہدری محسن عزیزکی پوزیشن انتہائی مستحکم ہے۔
خواجہ طارق سعید کو پیپلزپارٹی کے کئی عہدیداروں کی بھی حمایت حاصل ہے، یوں فیصل ممتاز راٹھور کو سابق اتحادیوں کی وجہ سے ہی بڑے نقصان کا سامنا ہے، ن لیگی امیدوار نے ان پر دھاندلی کےا لزامات بھی عائد کئے ہیں اور دو پریزائیڈنگ افسران بھی گرفتار ہوئے ہیں۔
عامر نذیر اس بار آئی پی پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑرہے ہیں لیکن وہ مہم نہیں چلا سکے ہیں ، سابق الیکشن میں پی ٹی آئی ٹکٹ پر انہوں نے اچھی کارکردگی دکھائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:حویلی کہوٹہ میں پریزائیڈنگ افسران کی گرفتاری و رہائی، کئی سوالات اٹھ گئے




