انتخابی

کس کے سر سجے گا اقتدار کا تاج؟ باغ اور حویلی میں فیصلہ کن انتخابی مقابلہ کل

آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو باغ اور حویلی میں انتخابی معرکہ ہوگا، جہاں 4 جنرل نشستوں پر ہونے والے مقابلے کے نتائج نئی قانون ساز اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

باغ اور حویلی کی 4 نشستوں پر 82 امیدوار میدان میں

رپورٹ کے مطابق باغ اور حویلی کے 4 انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 82 امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں، جبکہ 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنے ووٹ کے ذریعے امیدواروں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

چاروں نشستوں پر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے ساتھ آزاد امیدوار بھی بڑی تعداد میں انتخابی میدان میں موجود ہیں، جس کے باعث مقابلہ مزید دلچسپ ہوگیا ہے۔

ہر ووٹ سیاسی نقشہ تبدیل کرسکتا ہے

باغ اور حویلی کے انتخابی حلقوں میں سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ان حلقوں کے نتائج نہ صرف انتخابی عمل کی تکمیل کریں گے بلکہ نئی قانون ساز اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کی پوزیشن بھی واضح کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق ان 4 نشستوں میں ہر ووٹ سیاسی نقشہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھرپور انتخابی سرگرمیاں جاری ہیں۔

803 پولنگ اسٹیشنز، 1254 پولنگ بوتھ قائم

پونچھ ڈویژن کے حلقہ LA-14 باغ 1، LA-15 باغ 2، LA-16 باغ 3 اور LA-17 باغ و حویلی کہوٹہ میں پولنگ کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے 803 پولنگ اسٹیشنز اور 1254 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں۔

پولنگ کے دوران انتخابی عمل کو مکمل کرنے کے لیے 5 ہزار سے زائد انتخابی اہلکار اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

بڑی جماعتوں کے ساتھ آزاد امیدوار بھی متحرک

باغ اور حویلی میں انتخابی مقابلہ صرف بڑی سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں، بلکہ آزاد امیدوار بھی بڑی تعداد میں میدان میں موجود ہیں۔

چاروں حلقوں میں امیدواروں کی بڑی تعداد کے باعث سیاسی جماعتوں کے لیے ووٹرز کی حمایت حاصل کرنا اہم چیلنج بن گیا ہے، جبکہ معمولی ووٹوں کا فرق بھی نتائج پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔

نتائج سے حکومت سازی کی تصویر واضح ہوگی

10 اگست کو ہونے والی پولنگ کے بعد باغ اور حویلی کے نتائج سامنے آئیں گے، جن سے آزاد کشمیر کی نئی قانون ساز اسمبلی کی مجموعی سیاسی تصویر مکمل ہوجائے گی۔

ان نتائج کو نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ چار نشستوں پر کامیابی یا ناکامی سیاسی جماعتوں کی عددی پوزیشن پر اثر ڈال سکتی ہے۔

10 اگست کو انتظامیہ اور ووٹرز کا بھی امتحان

10 اگست کو ہونے والا آخری مرحلہ انتظامیہ، الیکشن کمیشن، سیاسی جماعتوں اور سب سے بڑھ کر ووٹرز کے لیے اہم امتحان ہوگا۔

باغ اور حویلی کے انتخابی نتائج کے بعد یہ فیصلہ سامنے آئے گا کہ آزاد کشمیر کی نئی قانون ساز اسمبلی میں کس جماعت کو برتری حاصل ہوتی ہے اور آئندہ پانچ برس کے لیے اقتدار کا تاج کس جماعت کے سر سجتا ہے۔