جدہ (کشمیر ڈیجیٹل): مملکت سعودی عرب، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور جمہوریہ ترکی نے ایک تاریخی پیشرفت کے تحت “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” پر دستخط کرنے کا مشترکہ اعلان کر دیا ہے۔
تینوں ممالک کے رہنماؤں کی باہمی مرضی سے طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد نہ صرف رکن ممالک کی سلامتی اور دفاع کو مضبوط بنانا ہے بلکہ وسیع تر خطے اور عالمی سطح پر امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔
یہ معاہدہ برسوں کے مذاکرات اور مسلسل رابطہ کاری کا نتیجہ ہے، جس کی بنیاد علاقائی ملکیت کے اصول اور مشترکہ دفاعی چیلنجوں کا مل کر مقابلہ کرنے کی خواہش پر رکھی گئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے مکہ مکرمہ میں اہم ملاقات
خطے میں بگڑتے ہوئے سیکیورٹی حالات اور عدم استحکام کے پیش نظر سامنے آنے والا یہ معاہدہ تینوں برادر ممالک کے قائم اسٹریٹجک تعلقات میں ایک نیا سنگِ میل ثابت ہوگا۔
معاہدے کا اہم ترین اور تاریخی پہلو یہ ہے کہ اس کے تحت تینوں میں سے کسی بھی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملے کو تمام دستخط کنندہ ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ عزم اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت انفرادی و اجتماعی دفاعِ خود اختیاری کے حق کے مطابق ہے۔
تینوں ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو ترقی دینے اور انہیں مربوط کرنے پر کام کریں گے تاکہ کسی بھی نوعیت کے خطرے سے مشترکہ طور پر نپٹا جا سکے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پونچھ، سدھنوتی میں 10 اگست کو پولنگ نہیں ہوگی، الیکشن کمیشن
یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، جس میں دفاعی صنعتی تعاون، باہمی صلاحیتوں کا فروغ اور ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت کی حفاظت شامل ہے۔
یہ نیا معاہدہ تینوں ممالک کے سابقہ یا دیگر ممالک/تنظیموں کے ساتھ موجود دوطرفہ یا کثیر جہتی معاہدوں کو متاثر، منسوخ یا تبدیل نہیں کرے گا۔
پائیدار امن کے قیام کے لیے یہ معاہدہ خطے کے تمام ایسے ممالک کیلئے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں، علاقائی ملکیت اور باہمی تعاون کے ذریعے تنازعات کے حل کو تسلیم کرنے کیلئے تیار ہوں۔
پاکستان، ترکیہ اور مملکتِ سعودی عرب کے درمیان دور اندیش حکمتِ عملی پر مبنی اجتماعی سلامتی کا معاہدہ دہائیوں پر محیط تاریخی تعلقات کا قدرتی ارتقا اور باقاعدہ قانونی تحریر ہے۔
ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اس کی اپنی آزادی سے بھی پہلے کے ہیں، جن کی جڑیں تحریکِ خلافت (1919–1924) میں ملتی ہیں۔ اسی طرح، پاکستان اور سعودی عرب طویل عرصے سے باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی قریبی اسٹریٹجک، سیاسی، اقتصادی اور عوامی تعلقات رکھتے ہیں۔
یہ خطہ ایک بڑے اسٹریٹجک تبدیلی اور خطرات کے عمل سے گزر رہا ہے۔ علاقائی تنازعات، سیکیورٹی چیلنجز، اور جنگ کے بدلتے ہوئے انداز ان ممالک کے درمیان مزید تعاون پر زور دیتے ہیں جو استحکام پر مبنی مشترکہ مقاصد کے حامل ہیں۔
اس ماحول میں، ایک سہ فریقی فریم ورک کسی مذہبی ہم آہنگی کے بجائے علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے اور اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے کا طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔
یہ سہ فریقی معاہدہ مکمل طور پر دفاعی ہے۔ یہ اجتماعی سلامتی اور اجتماعی deterrence کے اصولوں پر مبنی ہے، جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کسی ایک رکن پر کوئی بھی بیرونی حملہ تمام تینوں کیلئے ایک خطرہ بن جائے
کیونکہ ایسی کسی بھی جارحیت کے بتدریج تباہ کن اثرات تمام تینوں ممالک اور پورے خطے کے استحکام، خوشحالی اور مستقبل کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں
۔ یہ معاہدہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے اور اس کا مقصد قابلِ اعتماد Deterrence کے ذریعے تنازعات کو روکنا اور امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔




