آزادکشمیر ، حکومت سازی کی دوڑ فیصلہ کن مرحلے میں داخل،قائد ایوان کیلئے لابنگ، امیدوار سامنے آگئے

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں حکومت سازی کی دوڑ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں ہونے والے تیسرے اور آخری مرحلے کے انتخابات نئی قانون ساز اسمبلی کی سیاسی تصویر واضح کریں گے جبکہ قائد ایوان کیلئے بھی امیدواروں نے لابنگ شروع کردی ہے۔

پونچھ ڈویژن کے چار اضلاع پر مشتمل 11 جنرل نشستوں پر ووٹنگ ہوگی ،سیاسی مبصرین کے مطابق ان نشستوں کے نتائج حکومت سازی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:پونچھ سے 5 نشستیں جیتیں گے،مہاجرین نشستوں پر پیپلزپارٹی نے ایکشن کمیٹی کو استعمال کیا،طارق فاروق

انتخابی معرکہ باغ، حویلی، راولاکوٹ، پونچھ اور سدھنوتی میں ہوگا۔ باغ اور حویلی کے چار حلقوں میں 82 امیدوار جبکہ راولاکوٹ، پونچھ اور سدھنوتی کے سات حلقوں میں 126 امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں جہاں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔

ادھرابتدائی دو مرحلوں کے نتائج میں پاکستان مسلم لیگ (ن) واضح برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔

27 جولائی کو میرپور ڈویژن میں ہونے والے پہلے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے 9 نشستیں حاصل کیں، جبکہ 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن کے انتخابات میں 5 براہِ راست اور مہاجرین کی 10 نشستیں جیت کر اپنی مجموعی تعداد 24 نشستوں تک پہنچا دی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی پہلے مرحلے میں 4، دوسرے مرحلے میں مزید 4 نشستوں کے علاوہ مہاجرین کی 2 نشستیں جیت کر اب تک 10 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

سیاسی حلقوں کی نظریں اب 10 اگست کے انتخابات پر مرکوز ہیں، جہاں پونچھ ڈویژن کے نتائج نہ صرف اسمبلی کی حتمی تشکیل مکمل کریں گے بلکہ آزاد کشمیر میں نئی حکومت کی سمت کا بھی تعین کریں گے۔

دوسری طرف مسلم لیگ(ن) نے قائد ایوان کیلئے ناموں پر بھی غور کرنا شروع کردیا ہے، قائد ایوان کیلئے مسلم لیگ(ن)آزادکشمیر کے صدر شاہ غلام قادر،مسلم لیگ(ن) آزادکشمیر کے سیکرٹری جنرل طارق فاروق کے مابین مقابلہ ہے۔

پونچھ ڈویژن میں ہونیوالے انتخابات میںمشتاق منہاس کامیابی پر قائد ایوان کیلئے دوڑ میں شامل ہوجائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:موجودہ چیف الیکشن کمشنر نے 2016میں بھی ن لیگ کو دھاندلی سے اقتدار میں لایا تھا، پیپلزپارٹی قیادت

شاہ غلام قادر اور چوہدری طارق فاروق نے اسلام آباد میں ڈیرے لگا لئے ہیں اور بھرپور لابنگ کیلئے ملاقاتیں بھی شروع کردی ہیں کیونکہ 10اگست کوپونچھ ڈویژن کے انتخابات کے فوری بعد حکومت سازی کا عمل مکمل کیا جائیگا۔

تجریہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے امیدواروں میں ڈاکٹر نجیب نقی کا نام بھی شامل ہے لیکن ان کا مولانا سعید یوسف سے ٹف مقابلہ ہے اور ان کی نشست پر انتخابات بھی تاخیر کا شکارہوسکتے ہیں۔