سیکرٹری جنرل مسلم لیگ ن طارق فاروق نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سیاسی مفادات کے لیے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔۔
مہاجرین جموں و کشمیر کی 12 نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ بھی اسی سوچ کا حصہ تھا۔ جب تک تحریک عوامی حقوق تک محدود رہی، حکومت پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں نے بھی اس کی بات سنی۔
لیکن جب بعض عناصر نے آزاد کشمیر کو ایک آزاد ریاست بنانے اور مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے جیسے مطالبات اٹھائے تو یہ قومی مفاد سے متصادم تھا۔
طارق فاروق نے کہاکہ پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنی سیاسی جگہ نہ بنا سکی تو اس نے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے مختلف راستے اختیار کیے۔
تیسرے مرحلے کے الیکشن پر گفتگو کرتے ہوئے طارق فاروق کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق پونچھ ڈویژن میں انتخابات 10 اگست کو ہوں گے ، امید ہے مسلم لیگ ن کم از کم 5 نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔
نوازشریف کی پونچھ آمد
مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے ممکنہ انتخابی جلسے کے حوالے سے طارق فاروق نے کہاکہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ نواز شریف پونچھ ڈویژن میں انتخابی جلسہ کریں گے، تاہم حتمی پروگرام کا اعلان بعد میں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ باغ، حویلی اور دیگر علاقوں میں مجموعی طور پر انتخابی ماحول مسلم لیگ (ن) کے حق میں ہے تاہم تمام جماعتوں کو آزادانہ انتخابی مہم چلانے اور ووٹرز کو آزادانہ رائے کے اظہار کا موقع ملنا چاہیے۔
طارق فاروق نے کہاکہ پیپلز پارٹی انتخابی شکست کے خدشات کے باعث بعض ایسے عناصر کے ساتھ سیاسی روابط استوار کررہی ہے جو قومی مفاد کے مطابق کردار ادا نہیں کر رہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:یوم آزادی تقریبات کی تیاریاں: ڈپٹی کمشنر ساجد اسلم کی زیرصدارت اجلاس، اہم فیصلے
انہوں نے کہاکہ قومی سطح کی جماعتوں کو وقتی سیاسی فائدے کے لیے ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے وقتی طور پر کسی جماعت کو فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر قوم کو نقصان پہنچتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ 2021 کے انتخابات میں بھی حویلی میں نواز شریف کے جلسے میں بڑی تعداد میں عوام شریک ہوئے تھے اور اس مرتبہ بھی اگر وہ جلسہ کرتے ہیں تو انتخابی مہم پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام نواز شریف سے دو بنیادی وجوہات کی بنا پر محبت کرتے ہیں۔ پہلی وجہ ان کا کشمیری پس منظر ہے، جبکہ دوسری وجہ آزاد کشمیر میں ان کے دور حکومت میں ہونے والے ریکارڈ ترقیاتی منصوبے ہیں۔
طارق فاروق نے کہاکہ نواز شریف نے ہمیشہ آزاد کشمیر میں ترقی، تعلیم، نوجوانوں کے روشن مستقبل، جامعات کے فروغ، اسکالرشپس، لیپ ٹاپ پروگرام اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر توجہ دی، جبکہ دیگر سیاسی رہنما ایسی ترقیاتی سوچ پیش نہیں کر سکے۔
انہوں نے کہاکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ بعض سیاسی عناصر کی قربت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کیا، حالانکہ کشمیری عوام کا اصل مقصد ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کو مضبوط کرنا اور تکمیل پاکستان کی جدوجہد رہا ہے۔
طارق فاروق نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) ابتدا ہی سے اس مؤقف پر قائم رہی ہے کہ عوامی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ سابق حکومت کو چاہیے تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی سے بروقت مکالمہ کرتی اور عوام کے معاشی مسائل کو مثبت انداز میں حل کرتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ سیاست کا دوسرا نام مکالمہ ہے، تاہم اگر عوامی حقوق کے مطالبات کو اس مقام تک لے جایا جائے جہاں قومی سلامتی، ریاستی مفاد اور مسئلہ کشمیر کی بنیادی حیثیت متاثر ہونے لگے تو پھر حکومت خاموش نہیں رہ سکتی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پنجاب حکومت کا پوزیشن ہولڈرز طلباو طالبات کیلئے 1 لاکھ روپے انعام کا اعلان
ان کا کہنا تھا کہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر صرف موجودہ آزاد علاقے کی نمائندہ حکومت نہیں بلکہ پوری ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت ہے، اس لیے کوئی بھی ایسا مطالبہ قبول نہیں کیا جا سکتا جو ریاست کے تاریخی اور آئینی تشخص سے متصادم ہو۔
انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر کو بجلی پر سبسڈی دی، آٹے پر سبسڈی دی، صحت، تعلیم، سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے فراہم کیے۔ دانش اسکول قائم کئے جا رہے ہیں اور دانش یونیورسٹی بنانے کا بھی اعلان کیا گیا اس لیے یہ تاثر درست نہیں کہ آزاد کشمیر کے عوام کو بنیادی حقوق حاصل نہیں۔
طارق فاروق نے کہاکہ جب تحریک عوامی حقوق تک محدود تھی تو لوگ اس کے ساتھ کھڑے رہے، لیکن جب مہاجرین جموں و کشمیر کی 12 نشستیں ختم کرنے جیسے مطالبات سامنے آئے تو عوام نے بھی سوال اٹھانا شروع کر دیا۔
انہوں نے کہاکہ یہ سوچ کشمیری عوام کی نہیں ہو سکتی کیونکہ کشمیریوں کی جدوجہد ہمیشہ پوری ریاست جموں و کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم صرف 4 ہزار مربع میل کے آزاد علاقے کی بات نہیں کرتے بلکہ ہماری جدوجہد پوری ریاست جموں و کشمیر، جس میں وادی کشمیر، جموں، لداخ اور دیگر تمام علاقے شامل ہیں، کے لیے ہے اور ہمارا نصب العین تکمیل پاکستان ہے۔
طارق فاروق نے کہاکہ انتخابات کے پہلے دو مراحل میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کسی کے لیے حیران کن نہیں ہونی چاہیے کیونکہ پارٹی گزشتہ 5 برس سے مسلسل انتخابی تیاری کر رہی تھی۔
انہوں نے کہاکہ 2021 کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کو حکومت میں شامل ہونے کی پیشکش بھی کی تھی، لیکن پارٹی نے یہ پیشکش مسترد کردی کیونکہ اس نے عوام کے درمیان رہ کر اگلے انتخابات کی تیاری کا فیصلہ کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ 2021کا الیکشن مسلم لیگ (ن) سے چھین لیا گیا تھا، تاہم اس بار عوام نے دوبارہ اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
طارق فاروق نے کہاکہ 2016 سے 2021 تک مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے آزاد کشمیر میں تاریخی ترقیاتی منصوبے مکمل کئے۔ آزاد کشمیر کا ترقیاتی بجٹ کئی گنا بڑھا، وزیراعظم اور اسمبلی کے اختیارات میں اضافہ ہوا۔
بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر تیار کیا گیا، سرکاری اداروں میں اصلاحات متعارف کرائی گئیں، این ٹی ایس کے ذریعے شفاف بھرتیوں کا نظام قائم کیا گیا، نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کیے گئے اور جامعات کو وسائل فراہم کیے گئے۔
ان کے مطابق یہی وہ کارکردگی تھی جس کی بنیاد پر عوام نے ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کیا۔پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے جواب میں طارق فاروق نے کہاکہ آزاد کشمیر میں کسی قسم کی دھاندلی نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی سمجھتی تھی کہ مختصر مدت کی حکومت کے بعد بھی وہ انتخابات جیت جائے گی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے منظم انداز میں انتخابی مہم چلائی جبکہ دوسری جماعتیں اپنی تیاری مکمل نہیں کر سکیں۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہاکہ جو جماعت اپنی تیاری نہ کرے وہ شکست کے بعد الزامات ہی لگاتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عوام نے کارکردگی کی بنیاد پر مسلم لیگ (ن) کے حق میں فیصلہ دیا۔




