آزاد کشمیر عام انتخابات: مسلم لیگ (ن) کی 24 نشستوں کے ساتھ سادہ اکثریت، وزارتِ عظمیٰ کے لیے 5 اہم نام سامنے آ گئے

مظفرآباد (ویب ڈیسک): آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے ابتدائی دو مراحل کی مکمل شفافیت کے بعد ریاست کا سیاسی منظرنامہ واضح ہو گیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) 24 نشستیں حاصل کر کے ایوان کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے، جس کے بعد تمام تر سیاسی اور انتظامی توجہ تیسرے مرحلے کے نتائج اور آئندہ حکومت سازی پر مرکوز ہو چکی ہے۔

انتخابی نتائج کی تفصیلات اور سیاسی تحرک سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آئندہ پانچ سال کے لیے اقتدار کی دوڑ میں نمایاں برتری حاصل کر لی ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے بعد پارٹی نے باضابطہ حکومت قائم کرنے اور ایوان کی قیادت سے متعلق تیاریوں کو حتمی شکل دینی شروع کر دی ہے۔ ریاست کی تمام اہم سیاسی فضا میں اس وقت نئے قائدِ ایوان کی نامزدگی اور آئندہ کی حکومتی حکمتِ عملی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔

انتخابی صورتِ حال، پونچھ ڈویژن کا مرحلہ اور ایوان کا تناسب:

آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کی جانب سے اب تک مظفرآباد اور میرپور ڈویژن کی 22 عام نشستوں پر انتخابات کرائے جا چکے ہیں، جبکہ اس کے ساتھ مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں پر بھی ووٹنگ کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ ان دو بنیادی مراحل کے حاصل کردہ نتائج کے تحت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 24 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 10 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزادکشمیر:شاہ غلام قادر کا نام بطور مضبوط امیدوار سامنے آگیا

انتخابات کا تیسرا، آخری اور انتہائی اہم مرحلہ 10 اگست کو پونچھ ڈویژن کی باقی ماندہ 11 نشستوں پر انعقاد پذیر ہوگا۔ ان پونچھ ڈویژن کے حتمی نتائج کے بعد ہی آزاد کشمیر اسمبلی میں تمام جماعتوں کا حتمی پارلیمانی تناسب مکمل اور واضح شکل میں سامنے آ سکے گا۔ یہ نشستیں سیاسی اور حکومتی تشکیل میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کل 53 ارکان کے ایوان پر مشتمل ہے۔ اس ایوان میں 45 نشستوں پر ڈائریکٹ الیکشن ہوتے ہیں، جن میں آزاد کشمیر خطے کے 33 اور مہاجرین مقیم پاکستان کے 12 انتخابی حلقے پائے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ 5 نشستیں خواتین، ایک نشست علما و مشائخ، ایک نشست ٹیکنو کریٹ اور ایک نشست اوورسیز کشمیریوں کے لیے مخصوص کی گئی ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں حکومت کی تشکیل کے لیے مجموعی طور پر 27 ارکان کی سادہ حمایت درکار ہوتی ہے۔

وزارتِ عظمیٰ کے لیے 5 نام اور 2 امیدواروں کا انتخابی امتحان:

مسلم لیگ (ن) کے درونِ خانہ قائدِ ایوان یعنی وزیراعظم کے منصب پر فائض ہونے کے لیے 5 سینیئر شخصیات کے نام زیرِ غور ہیں۔ ان ناموں میں پارٹی صدر شاہ غلام قادر، سینیئر رہنما چوہدری طارق فاروق، سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر خان، سابق وزیر اطلاعات مشتاق منہاس اور سابق وزیر نجیب نقی شامل ہیں۔ پارٹی کی مرکزی و علاقائی قیادت کا اصل چیلنج ایک ایسے پارلیمانی قائد کی نامزدگی ہے جو تمام دھڑوں کے لیے یکساں قابلِ قبول ہو اور آنے والے 5 برس تک حکومت کو مکمل استحکام فراہم کر سکے۔

وزیراعظم کی دوڑ میں شامل دو اہم شخصیات، مشتاق منہاس اور نجیب نقی کا انتخابی مرحلہ ابھی باقی ہے۔ یہ دونوں رہنما 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں ہونے والے تیسرے مرحلے کے الیکشن میں بطور امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کی ذاتی کامیابیاں یا ناکامیاں بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر قائدِ ایوان کی اس دوڑ اور انتخابی مساوات پر اثر انداز ہوں گی۔

قیادت کے دیگر امیدواروں کے پاس سیاسی اور انتخابی صلاحیتیں موجود ہیں۔ پارٹی صدر شاہ غلام قادر کی تنظیمی پوزیشن انتہائی مستحکم سمجھی جاتی ہے اور ان کے پاس تمام گروہوں کو یکجا رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر خان اپنی انتظامی قابلیت اور تجربے کی بنیاد پر مضبوط دعویدار ہیں، جبکہ طارق فاروق کو پارٹی کا کلیدی دماغ اور بااثر ترین رہنما تصور کیا جاتا ہے جنہوں نے اعلیٰ آئینی ذمہ داریاں انجام دی ہیں۔

حکومت سازی کے بنیادی اصول اور عوامی فلاحی ایجنڈا:

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ ترین قیادت نے پونچھ ڈویژن کے حتمی مرحلے سے پہلے ہی نئی حکومت کی اولین فریم ورک اور بنیادی اصول طے کر لیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق غیر ضروری اخراجات پر مکمل قابو پانے، تیز تر فیصلے یقینی بنانے اور بہتر نظم و نسق قائم کرنے کی غرض سے صرف مختصر اور فعال کابینہ تشکیل دینے کا تہیہ کیا گیا ہے۔

اس اصولی اور انتظامی حکمتِ عملی کے تحت یہ فیصلہ بھی سامنے آیا ہے کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی نشستوں سے منتخب ہو کر آنے والے قانون سازوں کو اس بار کابینہ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ پارٹی قیادت اس اقدم کے ذریعے واضح پیغام دینا چاہتی ہے کہ نئی بننے والی حکومت کی اولین ترجیح خالصتاً گڈ گورننس، مالیاتی ضبط قائم کرنا اور عوامی مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: مظفرآباد ڈویژن: الیکشن کمیشن نے کامیاب امیدواروں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا

سیاسی تجزیہ کاروں اور متعلقہ فریقین کا کہنا ہے کہ 10 اگست کے الیکشن کے بعد اسمبلی ممبران کا حلف، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا چناؤ اور آخر میں وزیراعظم کا باقاعدہ انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ اگرچہ مسلم لیگ (ن) اقتدار حاصل کرنے کے لیے سرفہرست اور مضبوط ترین پوزیشن پر قائم ہے، تاہم آخری مرحلے کے نتائج پارٹی کی اندرونی طاقت کی تقسیم، وزارتوں کے محکموں اور قائدِ ایوان کے فائنل چناؤ میں اہم کردار ادا کریں گے۔

ریاست کی موجودہ صورتِ حال پر سینیئر صحافیوں کی آرا:

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار راجا کفیل احمد نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی نئی حکومت کو سب سے بڑا درپیش مسئلہ عوام کی عوامی ایکشن کمیٹی کا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی اس وقت بند گلی میں داخل ہو چکی ہے اور انہیں واپسی کے لیے فیس سیونگ کی ضرورت پڑے گی، اس لیے دیکھا جائے گا کہ نئی حکمران جماعت اس سنگین معاملے کو کس طرح حل کرتی ہے۔

راجا کفیل احمد کے مطابق وزیراعظم کے سب سے قوی امیدوار شاہ غلام قادر ہیں، تاہم راجا فاروق حیدر، طارق فاروق اور مشتاق منہاس بھی مضبوطی سے شامل ہیں۔ صحافی و سیاسی ماہر جاوید اقبال ہاشمی نے اپنی رائے میں بتایا کہ چوہدری طارق فاروق نئے وزیراعظم کے لیے سب سے فیورٹ اور بہترین انتخاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طارق فاروق انتظامی حوالے سے وسیع مہارت رکھتے ہیں اور بیرونِ ملک مقیم کشمیری سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد صرف ان کی بات سنتے ہیں۔

جاوید ہاشمی کے بقول، اگر طارق فاروق قائدِ ایوان بنتے ہیں تو وہ خطے کی تمام تر افراتفری ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ایسی صورت میں شاہ غلام قادر کو آزاد کشمیر کا صدرِ ریاست نامزد کیا جا سکتا ہے۔ ادھر سینیئر صحافی خواجہ اے متین کا کہنا تھا کہ شاہ غلام قادر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر ہونے کے ناطے اور وسیع تجربے کی بنا پر آئندہ وزیراعظم بننے کے سب سے مضبوط حقدار ہیں۔ ان کے مطابق نئی حکومت کا پہلا امتحان امن و امان کی بحالی ہوگا، جبکہ انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ اب عوامی ایکشن کمیٹی کو درمیانی راستہ فراہم کر دینا چاہیے کیونکہ مہاجرین کی نشستوں کے الیکشن مکمل ہو چکے ہیں اور ان کی منسوخی کا مطالبہ اب ختم ہو چکا ہے۔