لمبی قطاروں سے نجات، نادرا کے خودکار کیاسک سسٹم سے درخواست جمع کرانے کا مکمل طریقہ کار جاری

اسلام آباد : نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کی سہولت اور وقت کی بچت کی خاطر ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے اسلام آباد کے بلو ایریا آفس سمیت ملک بھر کے مختلف اہم مقامات پر جدید خودکار کیاسک مشین متعارف کروا دی ہے۔

نادرا کے قائم کردہ اس نئے اور جدید نظام کے بعد عوام الناس کو اب دفتری کارروائی کے لیے طویل اور دشوار گزار مرحلوں سے نہیں گزرنا پڑے گا۔ حکام کے مطابق اس جدید کیاسک مشین کی مدد سے شہری اب بغیر کسی لمبی قطار میں لگے یا ٹوکن لیے خود اپنے شناختی کارڈ کی تجدید یا گمشدہ کارڈ کی دوبارہ طباعت کیلیے خودکار طریقے سے اپنی درخواست دے سکتے ہیں۔

کیاسک مشین کے استعمال کا مرحلہ وار طریقہ کار:

شہریوں کی رہنمائی اور سہولت کی خاطر اس مشین کو استعمال کرنے کا انتہائی آسان اور شفاف طریقہ کار واضح کیا گیا ہے۔ مشین کے قریب آنے کے بعد سب سے پہلے اسکرین پر اپنی پسندیدہ زبان، خواہ اردو ہو یا انگریزی، کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ زبان کا انتخاب کرنے کے بعد اسکرین پر دی گئی مخصوص جگہ پر اپنا شناختی کارڈ نمبر درج کیا جاتا ہے۔

شناختی کارڈ نمبر درج کر کے لاگ ان ہوتے ہی سسٹم صارف کو فنگر پرنٹ کی اسکرین پر لے جائے گا جہاں اپنے فنگر پرنٹس اسکین کرنے ہوں گے تاکہ سسٹم اس بات کی مکمل تصدیق کر سکے کہ شہری اپنے ہی کارڈ کیلیے درخواست دے رہا ہے۔ اس کارروائی کے اختتام کے بعد اسکرین پر اپنا موبائل نمبر درج کیا جاتا ہے۔ اگر صارف کا پاک آئی ڈی لاگ ان پہلے سے بنا ہوا ہے تو ای میل خود بخود آ جائے گی، بصورت دیگر اپنی ای میل درج کرنے کا اختیار بھی موجود رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نادرا کو ڈیجیٹل شعبے میں شاندار کامیابیوں پر تین ایوارڈز مل گئے

اگلے مرحلے میں کیٹیگری کی قسم کا انتخاب کرنا ہوتا ہے، جہاں صارف کو دو اہم ترین آپشنز فراہم کیے جاتے ہیں۔ پہلا آپشن ایسے کارڈ کے لیے ہے جس کی معیاد ختم ہو چکی ہو یا ختم ہونے کے قریب (تین سے چار ماہ باقی) ہو۔ دوسرا آپشن ایسے کارڈ کا ہے جو گم ہو چکا ہو، اور اس آپشن کے تحت کارڈ کی ترسیل کیلیے مطلوبہ پتا منتخب کرنا ہوتا ہے۔

تصویر، دستخط اور فیس کی ادائیگی کے ضوابط:

کیٹیگری منتخب کرنے کے بعد مشین میں موجود کیمرے کے ذریعے خودکار طریقے سے اپنی تصویر کیپچر کی جاتی ہے اور ایک قابلِ قبول تصویر سامنے آنے پر Accept پر کلک کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد مشین کے ساتھ منسلک ڈیجیٹل پین کی مدد سے اسکرین پر اپنے دستخط ثبت کیے جاتے ہیں اور سسٹم کے ذریعے تسلیم ہونے پر اسے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔

درخواست کے آخری مراحل میں اسکرین پر شہری کی فراہم کردہ تمام معلومات کا باریک بینی سے جائزہ پیش کیا جائے گا۔ معلومات کی درستگی کے بعد اسکرین پر ایک کیو آر کوڈ نمودار ہوگا جس کی اپنے موبائل سے تصویر بنانا ہوگی، کیونکہ اسی کیو آر کوڈ کے ذریعے فیس کی ادائیگی کا عمل مکمل کیا جا سکتا ہے۔

ملک بھر میں کیاسک مشینوں کے لائیو مراکزمیں دستیابی:

نادرا کی جانب سے یہ جدید خودکار کیاسک مشینیں ملک بھر کے بیشتر اہم ترین میگا سنٹرز اور علاقائی دفاتر میں باقاعدہ نصب کی جا چکی ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں یہ سہولت نادرا میگا سنٹر بلیو ایریا اور نادرا رجسٹریشن سنٹر بھارہ کہو پر دستیاب کرائی گئی ہے۔ راولپنڈی میں نادرا میگا سنٹر مری روڈ، نادرا سنٹر سی ایس ڈی اور نادرا سنٹر واہ کینٹ کے مقامات پر شہری اس سہولت سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

صوبہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں نادرا میگا سنٹر داتا گنج بخش، نادرا میگا سنٹر ایجرٹن روڈ اور نادرا میگا سنٹر پیکو روڈ پر کیاسک مشینیں فراہم کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب کے دیگر شہروں میں نادرا میگا سنٹر گوجرانوالہ، نادرا سنٹر سیالکوٹ، نادرا میگا سنٹر فیصل آباد، نادرا سنٹر جھنگ، نادرا سنٹر سرگودھا سٹی، نادرا سنٹر ملتان سٹی، نادرا سنٹر ماڈل ٹاؤن بہاولپور اور نادرا سنٹر رحیم یار خان میں یہ سہولت فعال کی جا چکی ہے۔

مزید پڑھیں: نادرا افسران سمیت 4 افراد گرفتار: افغان شہریوں کے لیے جعلی دستاویزات بنانے والا نیٹ ورک بے نقاب

صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں نادرا میگا سنٹر ڈی ایچ اے، نادرا میگا سنٹر نارتھ ناظم آباد اور نادرا میگا سنٹر سیمنس چورنگی پر کیاسک فعال کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ حیدرآباد کے نادرا بگ سنٹر حیدرآباد اور نادرا بگ سنٹر ایسٹ کے ساتھ ساتھ نادرا سنٹر سکھر سٹی میں بھی یہ مشینیں نصب ہیں۔ صوبہ بلوچستان میں نادرا سنٹر کوئٹہ اور نادرا سنٹر کینٹ جبکہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں نادرا میگا سنٹر رنگ روڈ پر شہریوں کے لیے خودکار کیاسک مشین کی سہولت دستیاب کر دی گئی ہے۔