امیر جماعت اسلامی کا کل 7اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف کل 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوامی طاقت کا فیصلہ کن مظاہرہ ہوگا جس میں لاکھوں افراد شرکت کریں گے۔

حافظ نعیم الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک بھر میں اہم شاہراہوں پر احتجاجی دھرنے دئیے جائیں گے جبکہ مختلف اضلاع کو ملانے والی سڑکوں پر بھی احتجاج کیا جائے گا تاکہ حکومت کو عوام کو ریلیف دینے پر مجبور کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول 4روپے 45پیسے مہنگا،ڈیزل 2روپے سستا، نوٹیفکیشن جاری

انہوں نے کہا کہ احتجاجی تحریک کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ جماعت اسلامی کے کارکن اور ذمہ داران ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم، کارنر میٹنگز اور مختلف پروگراموں کے ذریعے شہریوں کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تحریک کسی سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بھاری بلوں اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے عوام کے حقوق کے لیے شروع کی گئی ہے۔

موجودہ معاشی پالیسیاں عام آدمی کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہیں اور عوام کو فوری ریلیف دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ 6 اگست کو لاہور کی وحدت روڈ پر جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے زیر اہتمام پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کریں گے جہاں خواتین بھی مہنگائی اور معاشی پالیسیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کریں گی۔

انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ 7 اگست کو موٹر سائیکل ریلیوں کی صورت میں احتجاج میں شریک ہوں اور پرامن انداز میں سڑکوں پر نکل کر عوامی مطالبات کی حمایت کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ احتجاج مکمل طور پر پرامن ہوگا اور اس دوران ایمبولینسوں، فائر بریگیڈ اور دیگر ہنگامی سروسز کی گاڑیوں کو بلا رکاوٹ گزرنے دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: مظفر آباد کے بعد وادی کے ہر علاقہ میں بنو قابل پروگرام کا آغاز ہوگا، حافظ نعیم

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو خبردار کیا کہ عوام کے آئینی اور جمہوری حقِ احتجاج میں رکاوٹ ڈالنے سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج کو روکنے یا طاقت کے استعمال کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی فوری طور پر ختم کی جائے، آئی پی پیز کے مہنگے معاہدوں پر نظرثانی کی جائے، بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔