تکیہ بانڈی کی رابطہ سڑکوں کے منصوبے برسوں سے التوا کا شکار، وزیر حکومت کا نوٹس

مظفرآباد: یونین کونسل لانگلہ کے گاؤں تکیہ بانڈی میں رابطہ سڑکوں کے ترقیاتی منصوبوں کی مسلسل بندش، تعمیراتی کاموں میں سست روی اور مبینہ محکمانہ غفلت کے باعث عوام کو درپیش مشکلات کا وزیر حکومت ڈاکٹر مصطفےٰ بشیر عباسی نے نوٹس لے لیا۔

وزیر حکومت نے چیف انجینئر شاہرات سے منصوبہ جات کی موجودہ صورتحال، تاخیر کی وجوہات اور متعلقہ ذمہ داران کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یونین کونسل لانگلہ کے گاؤں تکیہ بانڈی میں رابطہ سڑکوں کی تعمیر و تکمیل کے متعدد منصوبے گزشتہ کئی برسوں سے مختلف مراحل میں التوا کا شکار ہیں۔ 2021ء سے لے کر تاحال مختلف اوقات میں منظور ہونے والے ان منصوبوں میں سے کئی پر تعمیراتی کام ادھورا پڑا ہے، جبکہ متعدد منصوبوں کے ورک آرڈر جاری ہونے کے باوجود عملی طور پر کام شروع نہیں ہو سکا۔ ترقیاتی منصوبوں کی اس صورتحال کے باعث مقامی آبادی کو آمدورفت، روزمرہ ضروریات اور دیگر معمولات زندگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

عوامی مشکلات اور محکمانہ غفلت کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ:

علاقے میں رابطہ سڑکوں کی تعمیر عوام کی ایک بنیادی ضرورت ہے، تاہم منصوبوں کی منظوری کے باوجود ان پر بروقت کام نہ ہونا اور بعض مقامات پر تعمیراتی سرگرمیوں کا تعطل عوامی حلقوں میں تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ مقامی سطح پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جب مختلف منصوبوں کے لیے منظوری اور ورک آرڈر جاری کیے گئے تو ان پر عملی پیش رفت یقینی بنانے کے لیے متعلقہ محکمہ کی جانب سے کیا اقدامات کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: اختلاف رائے کیا ،افتخار گیلانی ہمارے عزیز،ساتھ کھڑے ہیں،شاہ غلام قادر

عوامی حلقوں کے مطابق منصوبوں کی مسلسل تاخیر کے باوجود تاحال کسی کنٹریکٹر کے خلاف کارروائی کی اطلاع سامنے نہیں آئی، جبکہ شاہرات کے متعلقہ فیلڈ عملے کی کارکردگی اور ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی مؤثر جواب دہی کا فقدان محسوس کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہر منصوبے کی الگ الگ تفصیلات سامنے لائی جائیں، تاکہ معلوم ہو سکے کہ تاخیر کی وجوہات کیا ہیں، کام کہاں رکا ہوا ہے اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

وزیر حکومت کے نوٹس کا خیرمقدم اور آئندہ کا لائحہ عمل:

وزیر حکومت ڈاکٹر مصطفےٰ بشیر عباسی کی جانب سے چیف انجینئر شاہرات سے تفصیلی رپورٹ طلب کیے جانے کو تکیہ بانڈی کے ترقیاتی منصوبوں کی صورتحال واضح کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں منصوبوں کی منظوری، ورک آرڈر کے اجراء، تعمیراتی کام کی موجودہ پیش رفت، فنڈز کی دستیابی، منصوبوں کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں اور متعلقہ کنٹریکٹرز و فیلڈ عملے کی ذمہ داریوں کی تفصیلات سامنے آنا ضروری ہے۔

عوامی حلقوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ وزیر حکومت کے نوٹس کے نتیجے میں نہ صرف برسوں سے التوا کا شکار رابطہ سڑکوں کے منصوبوں کی اصل صورتحال سامنے آئے گی بلکہ ان کی تکمیل کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کا حقیقی مقصد عوام کو سہولیات فراہم کرنا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ منظور شدہ منصوبوں پر عملی کام شروع کرایا جائے، نامکمل سڑکوں کی تعمیر مکمل کی جائے اور تاخیر کے ذمہ داران کا تعین کرکے قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ تکیہ بانڈی کے عوام کی نظریں اب چیف انجینئر شاہرات کی رپورٹ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی عملی پیش رفت پر مرکوز ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ تمام زیر التوا منصوبوں کی تکمیل کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے۔