اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے آزاد کشمیر کے حلقہ ایل اے 27 مظفرآباد اور یونین کونسل بھیری میں ہونے والی مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں پر اپنے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے مضبوط حلقوں میں مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر انتخابی عمل کو متنازع بنانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ مظفرآباد کے حلقہ ایل اے 27 میں سرکاری پولنگ عملہ بیلٹ پیپرز سمیت ن لیگ کے حامی کے گھر سے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔ نجی مکان میں سرکاری انتخابی عملے کی موجودگی اور بیلٹ پیپرز پر ٹھپے لگانے کی سامنے آنے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں اور یہ واقعات انتخابی شفافیت، غیرجانبداری اور قومی اداروں کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی نے ہنگامہ آرائی کروائی، انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوشش کی: رانا ثناء اللہ
الیکشن حکام کو شواہد کی فراہمی اور کارروائی کا مطالبہ:
سینیٹر شیری رحمان نے بتایا کہ ن لیگ کی جانب سے کی جانے والی دھاندلی سے متعلق تمام تر ویڈیوز بطور شواہد الیکشن حکام کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر شدید تعجب اور تحفظات کا اظہار کیا کہ اتنے واضح شواہد سامنے آنے کے باوجود متعلقہ پولنگ عملے کو دوبارہ انتخابی ڈیوٹی انجام دینے کی اجازت دینا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر فوری انتظامی اور قانونی کارروائی عمل میں لائے تاکہ مجموعی انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر سے فوری نوٹس لینے کی اپیل:
پیپلز پارٹی کی نائب صدر نے چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور معاملے کی آزادانہ و شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: مسلم لیگ (ن) 24 نشستوں کے ساتھ حکومت سازی کی مضبوط پوزیشن میں آ گئی
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل اور نتائج پر غیر قانونی طور پر اثرانداز ہونے والے تمام عناصر کی نشاندہی کی جائے اور انہیں آئین و قانون کے مطابق سخت سے سخت جوابدہ بنایا جائے۔




