اسلام آباد: شہد اور نیم گرم پانی کا استعمال ایک انتہائی صحت بخش عادت تصور کیا جاتا ہے، تاہم ہمارے ہاں یہ تاثر عام ہے کہ روزانہ صبح نہار منہ اس کا استعمال وزن میں تیز رفتار کمی کا باعث بنتا ہے۔ ماہرینِ صحت اور سائنسی تحقیقات اس دعوے کے حوالے سے ایک انتہائی متوازن نقطہ نظر اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ماہرینِ صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ شہد میں قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس، معدنیات اور دیگر فائدے مند مرکبات شامل ہوتے ہیں، جو انسانی جسم اور مجموعی صحت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ اپنے روزمرہ کے معمولات میں صبح کے وقت نیم گرم پانی میں شہد کا استعمال پسند کرتے ہیں۔
سائنسی تحقیقات اور کیلوریز کا جائزہ:
سائنسی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ محض شہد اور نیم گرم پانی کے پیالے یا گلاس سے جسم کی فالتو چربی یا وزن میں نمایاں کمی واقع نہیں ہوتی۔ اگرچہ شہد مکمل طور پر ایک قدرتی اور خالص غذا ہے، لیکن اس کے اندر کیلوریز موجود ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے اس کی زائد مقدار کا استعمال وزن گھٹانے کے بجائے جسمانی کیلوریز میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت فارما انڈسٹری میں انقلاب برپا کر دے گی، ماہرین
غذائی ماہرین کے مطابق اگر کوئی فرد نیم گرم پانی میں ایک چمچ شہد شامل کر کے پیتا ہے تو اسے ایک اچھے اور صحت مند معمول کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، تاہم اسے وزن کم کرنے کا بنیادی یا حتمی علاج گرداننا درست نہیں۔
وزن گھٹانے کے بنیادی اصول اور ضروری ہدایات:
ماہرین کا کہنا ہے کہ جسمانی وزن میں پائیدار کمی حاصل کرنے کے لیے متوازن ترین غذا، روزانہ کی بنیاد پر ورزش یا جسمانی سرگرمی، پورسکون اور مناسب نیند اور مجموعی طور پر ایک صحت مند طرزِ زندگی ہی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ کسی بھی ایک خاص مشروب یا غذا پر انحصار کر کے مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن نہیں ہے۔
اس کے علاوہ طبی ماہرین ہدایت کرتے ہیں کہ اگر کوئی فرد ذیابیطس، موٹاپے یا کسی بھی دیگر پیچیدہ طبی مسئلے سے دوچار ہو، تو اسے اپنی روزمرہ خوراک میں کوئی بھی نئی تبدیلی لانے سے قبل اپنے ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت سے مشورہ لازمی کرنا چاہیے۔ (نوٹ: یہ تمام معلومات صرف عمومی آگاہی کے لیے فراہم کی گئی ہیں؛ کسی بھی جدید طبی یا غذائی طریقہ کار پر عمل کرنے سے پہلے مستند معالج سے رہنمائی ضرور لیں)۔




