رانا ثناء اللہ

بلاول بتائیں فارم47 کی حکومت ہے تو زرداری کن کے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں،رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ اگر وہ موجودہ حکومت کو فارم 47 کی حکومت قرار دیتے ہیں تو پھر یہ بھی بتائیں کہ صدر آصف علی زرداری کن کےووٹوں سے منتخب ہوئے تھے۔

مظفرآباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہاکہ جن ووٹوں سے بلاول بھٹو کے والد صدر بنےوہ درست ہیں لیکن جن ووٹوں سے وزیراعظم منتخب ہوئے انہیں آپ فارم 47 کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہم گئے تو اکٹھے جائیں گے، امیر مقام کا پیپلزپارٹی کو پیغام

انہوں نے کہا کہ ہمیں بات سے نہ ڈرایا جائے کہ کاکروچ اکٹھے ہوجائیں گے، لیپ ٹاپ دینے یا وضائف دینے سے یہ نہیں سنبھلیں گے، ہم نے سنبھالے ہوئے ہیں۔

پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے ایسے انیشیٹو لیے ہوئے ہیں کہ وہاں کے نوجوان اور طالب علم اپنی حکومت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اگر سمجھتا ہے کہ وہ پاکستان پر حملہ کرے گا، پاکستان کو دولخت یا فتح کرلے گا، یا آزاد کشمیر کو بھی مقبوضہ کشمیر بنالے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔

اس بار معرکہ حق میں ہماری مسلح افواج اور ہمارے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ہندوستان کو وہ سبق سکھایا ہے کہ وہ اب دوبارہ پاکستان کیخلاف لڑنے کے قابل ہی نہیں رہا۔

ادھر نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئےراناثنااللہ نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے نظام سے متعلق بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تین سال بعد معلوم ہوا کہ نظام خراب ہے اور چلنے کے قابل نہیں۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ محسن نقوی کہتے ہیں کہ موجودہ نظام ختم ہو چکا ہے اور اب آگے نہیں چل سکتا، حالانکہ وہ خود گزشتہ تین برس سے اقتدار کا حصہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ تم نے تین سال میں تیس سال کا سفر کر لیا، کہاں سے چلے تھے اور کہاں پہنچ گئے ہو اور اب تمہیں پتا چلا کہ یہ نظام بالکل خراب ہے، چل نہیں سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: راناثناء اللہ، امیر مقام کی زیرصدارت اہم اجلاس، انتخابی پروگراموں کو حتمی شکل دیدی

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پاکستان کا پارلیمانی جمہوری نظام قائداعظم محمد علی جناح کی دی ہوئی میراث ہے اور عوام نے طویل سیاسی جدوجہد کے بعد یہ ملک حاصل کیا، اس لیے نظام کو ختم کرنے کے بجائے اسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انتظامی اصلاحات، سول سروس اصلاحات یا نئے صوبوں کے قیام پر بات کرنی ہے تو اس کے لیے پہلے تمام سیاسی قوتوں اور متعلقہ فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔