راولاکوٹ تشدد: گرفتار شرپسند کے سنسنی خیز انکشافات، کالعدم کمیٹی کا ایجنڈا بے نقاب

راولاکوٹ (کشمیر ڈیجیٹل): آزاد جموں و کشمیر میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں اور راولاکوٹ میں حالیہ پرتشدد واقعات کے پیچھے سرگرم کالعدم کمیٹی کا مبینہ مسلح ایجنڈا سامنے آگیا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے گرفتار کئےگئے مبینہ شرپسند نے سنسنی خیز انکشافات کردیئے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر بھر میں آج رات سے انٹرنیٹ سروس معطل، نوٹیفکیشن جاری

حراست میں لئے گئے مبینہ شرپسند عابد نے اعتراف کیا ہے کہ اس کا تعلق کالعدم کمیٹی کے ایک مسلح گروپ سے ہے اور وہ ایک تربیت یافتہ سنائپرہے

گرفتار کالعدم ایکشن کمیتی کے شرپسند عابد نے انکشاف کیا کہ اسے تقریباً دو ہفتے قبل مبینہ طور پر بیرونِ ملک سے اسی مقصد کے لیے یہاں لایا گیا تھا۔

گرفتار ملزم کے اعترافی بیان کے مطابق وہ رات کے وقت اپنے 10 سے 15 مسلح ساتھیوں کے ہمراہ رینجرز پر فائرنگ کے واقعے میں شامل تھا، جس کے دوران وہ خود بھی زخمی ہوا۔

ملزم نے اعتراف کیا کہ اس کے پاس اسلحہ موجود تھا اور ان کی فائرنگ کے نتیجے میں رینجرز کے 4 سے 5 اہلکار زخمی ہوئے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر: بیرون ملک سے آنیوالا تربیت یافتہ سنائپر گرفتار،اہم انکشافات متوقع

اس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ کالعدم کمیٹی کے 100 سے 150 کے قریب مسلح کارکنان اب بھی مختلف مقامات پر ہتھیاروں کے ساتھ موجود ہیں۔

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ احتجاج کی آڑ میں تربیت یافتہ سنائپرز اور مسلح عناصر کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس اشتعال انگیزی کے پیچھے باقاعدہ پیشگی منصوبہ بندی اور گہرے مقاصد کارفرما تھے۔
دوسری جانب، ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے خطے میں امن و امان کے قیام، شہریوں کے تحفظ اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کیلئے انتہائی تحمل، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ انداز میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔