نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کی یہ جدید سہولت پہلے مرحلے میں کن کن اداروں سے منسلک پنشنرز کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد پنشنرز کو طویل لائنوں اور مشکلات سے بچانا اور ان کے تصدیقی عمل کو آسان بنانا ہے۔
نادرا کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق پہلے مرحلے میں یہ سہولت کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس اور صوبائی اکاؤنٹنٹس جنرل کے زیر انتظام کام کرنے والے تمام وفاقی و صوبائی اداروں کے پنشنرز کے لیے فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر کے پنشنرز بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: نادرا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر بین الاقوامی سفر پر پابندی عائد، ڈیڈلائن مقرر
مسلح افواج اور دیگر اداروں کے پنشنرز:
ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کے زیر انتظام آنے والے تینوں مسلح افواج کے پنشنرز کے لیے بھی یہ سہولت پہلے مرحلے ہی میں مہیا کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نادرا اور ریڈیو پاکستان کے پنشنرز بھی اس نظام کے ذریعے اپنا پروف آف لائف سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ دیگر تمام اداروں سے وابستہ پنشنرز کے لیے یہ سہولت آنے والے مراحل میں مرحلہ وار فراہم کی جائے گی۔
تصدیق کا طریقہ کار اور خودکار ترسیل:
نادرا کے مطابق اگر پروف آف لائف سرٹیفکیٹ ایک ماہ بعد یا چھ ماہ بعد دوبارہ طلب کیا جائے، تو پنشنرز کو ہر بار ‘پاک آئی ڈی موبائل ایپ’ کے ذریعے اپنی تصدیق کا عمل مکمل کرنا ہوگا۔ جیسے ہی ہر بار تصدیق کا عمل کامیابی سے مکمل ہوگا، ایک نیا پروف آف لائف سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جائے گا اور یہ سرٹیفکیٹ خودکار طریقے سے براہِ راست پنشن فراہم کرنے والے متعلقہ ادارے کو جمع ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ اس اہم سرٹیفکیٹ کا باضابطہ افتتاح وزیراعظم شہباز شریف نے کیا تھا۔




