راولاکوٹ: کالعدم ایکشن کمیٹی کے غیر مسلح اور پرامن ہونے کے نام نہاد دعوؤں کا پول کھل گیا ہے، جہاں راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والے ایک مسلح کارندے نے انتہائی تشویشناک اور ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔
منظرِ عام پر آنے والی ویڈیو میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسند عناصر متعدد جدید ہتھیاروں کے ساتھ واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ اور جوان شدید زخمی
ذرائع کے مطابق علاقے میں انتشار اور بدامنی پھیلانے کے لیے کالعدم تنظیم کے مسلح شرپسند عناصر عام کشمیری عوام سمیت سیکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنانے میں ملوث ہیں۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کے کارندوں کی جانب سے کی جانے والی حالیہ فائرنگ کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کے سپاہی علی عباس شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر انتخابات شفاف ہوئے،ایکشن کمیٹی کا مارچ روکا جائیگا، رانا ثناء
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی اور گرفتاری
واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح کارندے زوہیب خالد کو موقع سے گرفتار کر لیا ہے۔
تلاشی کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں گرفتار شرپسند کے قبضے سے امریکی ساختہ جدید رائفل بھی برآمد کر لی گئی ہے۔
ایم فور رائفلوں کی فراہمی اور 1 کروڑ روپے انعام کا انکشاف
گرفتاری کے بعد ملزم سے ہونے والی تحقیقات میں یہ سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے سرغنہ کی جانب سے خطے میں بدامنی اور انتشار پھیلانے کے لیے کارندوں کو جدید امریکی ساختہ ایم فور رائفلیں فراہم کی گئی تھیں۔
گرفتار کارندے زوہیب خالد نے اعتراف کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے رینجرز یا پولیس کے کسی بھی ایک جوان کو نشانہ بنانے یا شہید کرنے پر 1 کروڑ (10,000,000) روپے کی بھاری انعامی رقم مختص کی گئی تھی۔
ان تازہ ترین انکشافات اور نا قابلِ تردید ویڈیو شواہد نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے غیر مسلح ہونے کے نام نہاد دعوؤں کا حقیقت میں پول کھول کر رکھ دیا ہے۔




