نئی دہلی:بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نےآخرکار ڈیڑھ ماہ بعد نوجوانوں کے شدید احتجاج کے بعد امتحانی پرچے لیک کرنے میں ملوث افراد کو سزا دینے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کردیا۔
مودی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی فلاح اور ان کا مستقبل سب سے زیادہ اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی طلباء کی احتجاجی تحریک ،پاکستانی سوشل میڈیا اکائونٹس کی بندش،مودی کا چہرہ بے نقاب
مودی نے لکھا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پرچے لیک کرنے میں ملوث افراد کو فوری اور سخت سزا یقینی بنانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی جو لوگ ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے، انہیں بخشا نہیں جائے گا۔
دوسری جانب نوجوانوں کی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترجمان نے بھارتی وزیراعظم مودی کے ڈیڑھ ماہ بعد نوٹس لینے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے وزیر تعلیم کے مستعفی ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
ترجمان سی جےپی اشوتوش رانکا کا کہنا ہے کہ یہ اچھی بات ہے کہ ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد آخرکار وزیر اعظم نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آخر پیپر لیک ہو ہی کیوں رہے ہیں؟
ترجمان نے کہا کہ پیپر لیک اس لیے ہورہے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک وزیرتعلیم سمیت ناہل لوگ بیٹھے ہیں جو پیسہ بنارہےہیں، نظام چلانے والے لوگ نااہل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں لڑکیوں سے زیادہ گائے محفوظ، آئین نہ بچایا تو ملک کشمیر جیسی جیل بن جائے گا،محبوبہ مفتی
ترجمان نے کہا کہ ہم یہاں سے اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک وزیر تعلیم دھر میندر پردھان استعفیٰ نہیں دے دیتے۔
یاد رہے کہ بھارت میں احتجاجی طلبہ کااحتجاج بیرون ممالک تک پھیل چکا ہے اور طلبہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، نریندر مودی نے اپنے وزیرتعلیم کو ڈیڑھ ماہ تک بچانے کی پوری کوشش کی اور خاموشی اختیار کئے رکھی۔




