مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے بینک آف آزاد جموں و کشمیر کے نئے صدر کی تقرری سے متعلق جاری عمل کو روکنے کا حکم دیتے ہوئے صدر کی آسامی کے لیے جاری کیا گیا اشتہار اور اس کے تحت ہونے والے انٹرویوز کو کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت عالیہ نے بینک کے صدر کا اضافی چارج چیف سیکرٹری آزاد کشمیر کے سپرد کیے جانے کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر سینئر ایگزیکٹو پریزیڈنٹ شاہد میر کو قائم مقام صدر کا چارج سونپنے کا حکم جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں:کشمیر بینک میں جاری اندرونی تنازعات نے ادارے کی اڑان روک دی
عدالت نے قرار دیا کہ بینک کے انتظامی معاملات قانون اور قواعد کے مطابق چلائے جائیں اور کسی بھی تقرری یا انتظامی اقدام میں قانونی تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ احکامات تک نئے صدر کی تقرری کے لیے کوئی کارروائی نہ کی جائے۔
درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ صدر کی آسامی پر تقرری کا عمل مقررہ قواعد و ضوابط کے برعکس شروع کیا گیا، جبکہ چیف سیکرٹری کو بینک کے صدر کا اضافی چارج دینا بھی قانونی اختیار سے تجاوز ہے۔
عدالت نے ابتدائی دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے عبوری ریلیف فراہم کیا اور اشتہار، انٹرویوز اور تقرری کا عمل معطل کر دیا۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ بینک کے روزمرہ انتظامی امور متاثر نہیں ہونے چاہئیں، اس لیے سینئر ایگزیکٹو پریزیڈنٹ شاہد میر فوری طور پر قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ کا نیا انقلاب؛ ملک کا پہلا انٹرنیشنل ڈیبٹ کارڈ متعارف!
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے، جہاں تقرری کے عمل، قانونی اختیارات اور دیگر انتظامی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
اس فیصلے کے بعد بینک آف آزاد کشمیر کے نئے صدر کی تقرری کا پورا عمل آئندہ عدالتی فیصلے تک موخر ہو گیا ہے۔




