امریکا ایران کیساتھ مذاکرات کیلئے اب بھی تیار ہے، بحران کا حل چاہتے ہیں: مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے جاری بحران کا سفارتی حل چاہتا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا مذاکرات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم ایران اس حوالے سے درکار سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔

فلپائن میں منعقدہ آسیان وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مارکو روبیو نے ایرانی موقف پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ماضی میں طے شدہ وعدوں اور معاہدوں پر عمل نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر آنے میں سنجیدگی دکھائے گا تو امریکا بھی اتنی ہی سنجیدگی سے آگے بڑھے گا، لیکن اگر ایران نے سنجیدگی نہ دکھائی تو امریکا اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا آبنائے ہرمز کے تحفظ کا عزم ، امریکہ اور اسرائیل کو سنگین نتائج کی وارننگ

آبنائے ہرمز اور عالمی سمندری راستوں کی صورتحال:

امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر اپنا کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز پر کسی ایک ملک کے اس قسم کے کنٹرول کی کسی بھی بین الاقوامی قانونی نظام میں کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ اگر ایران کو ایسا کرنے کی اجازت دی گئی تو یہ عمل دنیا کے دیگر تمام حساس اور اہم سمندری راستوں کے لیے خطرناک ہو گا۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا موقف:

دوسری جانب، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایرانی خبر ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی پر موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ جنگ اس وقت ختم ہو گی جب ایران کو میدانِ جنگ میں واضح برتری حاصل ہو جائے گی۔ ان کے مطابق جنگ کا خاتمہ یا تو مکمل عسکری فتح کے ذریعے ممکن ہے یا پھر مذاکرات کے راستے سے ہی ہو سکتا ہے۔

اسٹریٹجک کامیابیاں اور قومی فیصلوں کی حساسیت:

عباس عراقچی نے مذاکرات کے وقت اور حکمتِ عملی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا درست اور مناسب وقت وہ ہوتا ہے جب آپ فوجی محاذ پر ٹھوس میدانی اور اسٹریٹجک کامیابیاں حاصل کر چکے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی زندگیوں اور ملک کے مستقبل جیسے حساس معاملات میں کسی قسم کا خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا، اور اس طرح کے تمام فیصلے ہمیشہ درست، سنجیدہ اور مکمل حساب کتاب کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔

مزید پڑھیں: امریکہ میں بھارتی گینگز کیخلاف گرینڈ آپریشن،24ملزمان گرفتار