مظفرآباد:آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2026 کے لیے سیاسی جماعتوں، امیدواروں، الیکشن ایجنٹس اور کارکنوں کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے، جس کے تحت انتخابی عمل میں شفافیت، امن و امان اور عوامی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں، امیدواران اور الیکشن ایجنٹس آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974ء اور انتخابی قوانین میں دئیے گئے عوامی حقوق اور آزادیوں کا احترام یقینی بنائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ملازمین کے ووٹوں کی گنتی 27جولائی انتخابات کے بعد ہوگی،الیکشن کمیشن
ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت، امیدوار یا الیکشن ایجنٹ ایسا بیان یا عمل نہیں کرے گا جو ریاست جموں و کشمیر کی مسلمہ حیثیت، سالمیت، سلامتی، اخلاقیات یا امن عامہ کے خلاف ہو یا جس سے آزاد کشمیر و پاکستان کی عدلیہ کی آزادی و خودمختاری متاثر ہو یا عدلیہ اور افواج پاکستان کی شہرت کو نقصان پہنچے۔
الیکشن کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اور امیدوار انتخابی قوانین، کمیشن کی ہدایات اور ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل کریں گے جبکہ الیکشن کمیشن یا اس کے چیئرمین اور اراکین کی تضحیک سے بھی گریز کیا جائے گا۔
رشوت، تحائف پر پابندی
ضابطہ اخلاق کے مطابق سیاسی جماعتیں، امیدواران، الیکشن ایجنٹس اور ان کے حمایتی کسی بھی شخص کو انتخابات میں حصہ لینے یا دستبردار ہونے کے لیے تحائف، لالچ یا رشوت نہیں دے سکیں گے۔ ایسی خلاف ورزی کو انتخابی بدعنوانی تصور کیا جائے گا۔
سیاسی جماعتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خواتین اور مرد کارکنوں کو انتخابی عمل میں شرکت کے لیے مساوی مواقع فراہم کریں، جبکہ کسی بھی ایسے معاہدے یا اقدام سے گریز کیا جائے جس کا مقصد خواتین، مردوں یا خواجہ سراؤں کو انتخابی عمل میں حصہ لینے یا ووٹ کے حق سے محروم کرنا ہو۔
انتخابی اخراجات کی حد مقرر
الیکشن کمیشن نے امیدواروں کے انتخابی اخراجات کی حد 50 لاکھ روپے مقرر کر دی ہے۔ تمام امیدوار اس حد کے اندر اخراجات کرنے کے پابند ہوں گے۔
امیدوار یا اس کا الیکشن ایجنٹ عام انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد 35 دن کے اندر انتخابی اخراجات کی تفصیلات جمع کرانے کا پابند ہوگا۔
اسلحہ اور سرکاری وسائل کے استعمال پر پابندی
ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ امیدواران، سیاسی جماعتیں اور ان کے کارکن انتخابی مہم یا پولنگ کے دن تشدد، دھمکی یا خوف و ہراس پھیلانے سے مکمل اجتناب کریں گے۔
عوامی جلسوں، جلوسوں اور پولنگ کے دن کسی بھی قسم کے ہتھیار یا آتشیں اسلحہ لے جانے اور اس کی نمائش پر پابندی ہوگی تاہم امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو قانونی اجازت نامے کے ساتھ اسلحہ رکھنے کی اجازت ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے عوامی اجتماعات اور پولنگ اسٹیشنوں کے قریب فائرنگ، ہوائی فائرنگ، پٹاخوں یا آتش گیر مواد کے استعمال کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔
انتخابی مہم 48 گھنٹے قبل ختم ہوگی
الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ سے 48 گھنٹے قبل انتخابی مہم مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی اور اس دوران کسی جلسے، جلوس یا انتخابی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔
بل بورڈز، دیواروں پر تحریر، بڑے پینا فلیکس اور غیر منظور شدہ سائز کے پوسٹرز، بینرز اور پمفلٹس پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
سیاسی جماعتیں یا امیدوار سرکاری عمارتوں اور املاک پر اپنے جھنڈے نہیں لگا سکیں گے، جبکہ کسی سرکاری ملازم کی تصویر انتخابی تشہیری مواد میں استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
میڈیا پر دباؤ پر پابندی
الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اخبارات، پرنٹنگ پریس اور الیکٹرانک میڈیا پر کسی قسم کا ناجائز دباؤ نہ ڈالیں اور اپنے کارکنوں کو بھی میڈیا کے خلاف کسی کارروائی سے روکیں۔
ضابطہ اخلاق کے مطابق عام انتخابات 2026ء میں کوئی بھی امیدوار، بشمول وزیراعظم اور اسپیکر قانون ساز اسمبلی، سرکاری وسائل استعمال نہیں کر سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں:عام انتخابات 27 جولائی کو ہی ہوں گے، کسی صورت سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے، چیف الیکشن کمشنر
الیکشن کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران سرکاری وسائل استعمال کرنے والے امیدوار کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہےجبکہ انتخابی مہم کے لیے استعمال ہونے والی سرکاری گاڑیاں ضبط اور ملوث سرکاری افسران کو معطل کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم، وزرا، مشیران حکومت اور خصوصی معاونین بھی انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد سرکاری گاڑی یا سرکاری جھنڈے کے استعمال کے ساتھ انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔




