نشستوں کا معاملہ آئینی،کالعدم ایکشن کمیٹی کا احتجاج غیر آئینی،شہریوں کا ردعمل

کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پاک فوج اور مہاجرینِ مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے حوالے سے کیے جانے والے پروپیگنڈے پر شہریوں کا شدید ردِعمل

مہاجرین جموں وکشمیر کی بارہ نشستوں کے حوالے سے عوامی حلقوں نے کالعدم ایکشن کمیٹی کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

عوامی حلقوں کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آزادکشمیر کا فیصلہ آگیا تھا کہ مہاجرین کی بارہ نشستوں کو آئینی تحفظ حاصل ہے ۔ تمام ایشوز آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہی حل کئے جاسکتے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فیصل راٹھورکوبڑاجھٹکا، ضلعی صدر پیپلزپارٹی، 22کونسلرز، 4 ڈسٹرکٹ کونسلرزکامستعفی ہونے کا فیصلہ

مسلم لیگ ن کی رہنما نورین عارف کا کہنا تھا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی ریاست کیخلاف برسرپیکار ہے، قومی اداروں پر حملے ناقابل برداشت ہیں ، افواج پاکستان گزشتہ 47سال سے آزادکشمیر کے عوام کو تحفظ فراہم کررہی ہے ۔

شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کے حالات انتہائی تشویشناک ہیں مگر کوئی بھی تحریک پرامن انداز میں ہو تو حقوق کا ملنا آسان ہوجاتا ہے ، پرتشدد تحریکیں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں، سرحد پار کشمیر میں جو حالات ہیں آزادکشمیر کے عوام ان کیلئے آواز بلند کریں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وارڈ ٹمبی کے معزز خاندان راجہ ثاقب مجید کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) میں شامل

12 نشستوں کا معاملہ حل کرنے کیلئے اسمبلی کا فورم موجود ہے ، عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت الیکشن لڑکر اسمبلی میں آئے اور اسے آئینی ترمیم کے مطابق ختم کرے ، آئے روز کی ہڑتالوں سے غریب عوام کا نقصان ہورہا ہے۔

شہریون کا مزید کہنا تھا کہ ایکشن کمیٹی بارہ نشستوں کا خاتمہ چاہتی ہے تو انتخابات میں حصہ لیکر آئین میں ترمیم کرے، جتھوں کے زریعے سڑکوں پر آئینی معاملات طے نہیں کیے جا سکتے۔