فیصل راٹھورکوبڑاجھٹکا، ضلعی صدر پیپلزپارٹی، 22کونسلرز، 4 ڈسٹرکٹ کونسلرزکامستعفی ہونے کا فیصلہ

فارورڈ کہوٹہ / حویلی(کشمیر ڈیجیٹل) آزاد جموں و کشمیر کی سیاست سے اس وقت کی سب سے بڑی اور سنسنی خیز خبر سامنے آگئی جہاں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور کو ان کے اپنے ہی آبائی اور انتخابی حلقے میں شدید سیاسی جھٹکا لگا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی ضلع حویلی کے صدر نے اپنے پورے مضبوط دھڑے، درجنوں کونسلرز اور ڈسٹرکٹ کونسلرز سمیت پیپلز پارٹی سے باضابطہ طور پر مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

صدر پیپلز پارٹی ضلع حویلی سمیت 22 منتخب کونسلرز اور 4 ڈسٹرکٹ کونسلرز نے پارٹی سے اجتماعی استعفوں کے اعلان نے وزیراعظم کا انتخابی قلعہ اندر سے ہی ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اپنے ہی حلقے میں اتنی بڑی تعداد میں بلدیاتی اور تنظیمی قیادت کا الگ ہونا وزیراعظم فیصل راٹھور کے لیے ایک بڑی پریشانی بن گیا ہے۔

وزیراعظم کے نامزد حلقے میں پیپلز پارٹی کا صفایا۔ غیر معمولی اور دھماکہ خیز سیاسی پیش رفت اس لحاظ سے انتہائی حساس اور اہم ہے کیونکہ ضلع حویلی کا یہ حلقہ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور کا ہوم گراؤنڈ ہے اور وہ خود یہاں سے پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات؛ پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم تیز ، بلاول بھٹو کے جلسوں کا شیڈول جاری

باوثوق ذرائع کے مطابق پارٹی چھوڑنے والوں میں نہ صرف پی پی پی ضلع حویلی کے صدر شامل ہیں بلکہ ان کے ہمراہ 22 منتخب بلدیاتی کونسلرز اور 4 اہم ڈسٹرکٹ کونسلرز بھی آج پارٹی سے اپنے استعفے پیش کر رہے ہیں۔

امیدوار اسمبلی خواجہ طارق سعید میڈیا سیل بھی متحرک ہوگیا۔ وزیراعظم کے اپنے حلقے سے اتنی بڑی تعداد میں بلدیاتی اور تنظیمی قیادت کا بیک وقت پارٹی سے الگ ہونا حویلی میں پیپلز پارٹی کے انتخابی اور تنظیمی ڈھانچے کیلئےبہت بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، پیپلز پارٹی حویلی کے اندر یہ دراڑ راتوں رات نہیں پڑی بلکہ اس کے پیچھے گہرے تحفظات موجود تھے

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مستعفی ہونے والے ضلعی صدر اور کونسلرز طویل عرصے سے حلقے کے ترقیاتی امور، انتظامی فیصلوں اور پارٹی معاملات میں نظرانداز کیے جانے پر شدید نالاں تھے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شہرِ بے مثال میں زندگی معمول پر واپس؛ مظفرآباد میں ہڑتال مسترد، تجارتی مراکز میں رونقیں لوٹ آئیں

ایک ایسے وقت میں جب وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور کو اپنے حلقے میں سیاسی گرفت مضبوط رکھنی تھی، کونسلرز کے اس اکثریتی گروپ کا الگ ہونا آنے والے انتخابات اور مقامی بلدیاتی نظام پر گہرے منفی اثرات مرتب کرے گا۔

اتنے بڑے پیمانے پر استعفوں کے بعد ضلع حویلی کی مقامی حکومت (لوکل گورنمنٹ) اور بلدیاتی اداروں کا توازن مکمل طور پر بگڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

مستعفی ہونے والے رہنماؤں کا یہ گروپ آج ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں اپنے استعفوں کی تفصیلی وجوہات عوام کے سامنے رکھے گا اور اپنے اگلے سیاسی لائحہ عمل کا اعلان کرے گا۔

سیاسی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں عروج پر ہیں کہ یہ باغی دھڑا کسی دوسری بڑی سیاسی قوت میں شمولیت اختیار کر کے وزیراعظم کے خلاف ایک نیا محاذ قائم کرنے جا رہا ہے۔