bilawal

بلاول بھٹو کا عوامی ایکشن کمیٹی کے آزادکشمیر کی سنگین صورتحال سے متعلق خط کا جواب

بلاول بھٹو زرداری نے عوامی ایکشن کمیٹی کے خط کے جواب میں لکھا کہ آپ کا خط موصول ہوا۔ آزاد جموں و کشمیر میں جاری جانی نقصان، بشمول گزشتہ روز رپورٹ ہونے والی اموات، ایک قومی سانحہ ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ میں تمام سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعاگو ہوں۔ ہر کشمیری شہری کی جان قیمتی ہے۔ ایک پرامن شہری کی موت کو سیاسی اختلاف کا قابلِ قبول نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا جس طرح ہر پولیس اہلکار اور سکیورٹی اہلکار کی جان کا تحفظ بھی یکساں اہم ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:اسمبلی میں آئیں، سڑکوں پر نہیں: بارہ نشستوں کے خاتمے کا فیصلہ آئینی ترمیم سے ہوگا، کشمیری شہری

آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے سیاسی، معاشی اور آئینی مطالبات پُرامن انداز میں پیش کرنے کا غیر متزلزل حق حاصل ہے۔ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والے پُرامن شہریوں کو بلاامتیاز دہشت گرد، پاکستان مخالف یا کسی غیر ملکی طاقت کا ایجنٹ قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔

اسی طرح اگر کسی مظاہرین یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کے کسی اہلکار کے خلاف تشدد کا کوئی مخصوص الزام ہو تو اس کی انفرادی، غیرجانبدارانہ اور قانون کے مطابق تحقیقات ہونی چاہئیں۔

موجودہ محاذ آرائی نہ طاقت کے استعمال سے ختم ہو سکتی ہے اور نہ ہی اشتعال انگیز الزامات سے۔ اسی طرح تحریری طور پر کیے گئے وعدوں کو اس بحث کی نذر نہیں ہونے دیا جا سکتا کہ ان پر عمل ہوا ہے یا نہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی کے ہمدرد اوورسیز کےغیرموثر نائیکوپ پرپاکستان سفر پر پابندی

حالیہ واقعات، مختلف فریقوں کے طرزِ عمل، سابقہ معاہدوں پر عمل درآمد، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان کے خلاف درج مقدمات اور تنظیم کو کالعدم قرار دینے کے نوٹیفکیشن کے حوالے سے مختلف اور متضاد مؤقف موجود ہیں۔ ان معاملات کا فیصلہ الزامات، اجتماعی ذمہ داری عائد کرنے یا مزید محاذ آرائی کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری کا جوابی کہنا تھا کہ لہٰذا میں تجویز پیش کرتا ہوں کہ تمام متعلقہ فریقوں کی باہمی رضامندی سے ایک حقیقت و مفاہمتی کمیشن (Truth and Reconciliation Commission) قائم کیا جائے۔ اس کمیشن کو اتنا وسیع مینڈیٹ دیا جائے کہ وہ موجودہ صورتحال کا جامع جائزہ لے، حقائق کا تعین کرے، تمام فریقوں کے مؤقف اور شکایات سنے، زیرِ التوا سیاسی، قانونی اور انتظامی معاملات کا جائزہ لے اور ایک منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے سفارشات پیش کرے۔

میں پہلے بھی راولاکوٹ کے عوام کی کشمیری شناخت پر سوال اٹھانے والے بیانات کی مخالفت کر چکا ہوں۔ میں ایک بار پھر واضح کرتا ہوں کہ اسلام آباد میں بیٹھے کسی فرد کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ یہ طے کرے کہ کون کشمیری ہے اور کون نہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی عزت، وقار اور شناخت کسی حکومت سے اتفاق یا اختلاف کی محتاج نہیں۔

میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی تحریک کو پُرامن رکھے اور فوری مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں تعاون کرے۔ یہ اپیل نہ ہتھیار ڈالنے کی درخواست ہے اور نہ خاموشی اختیار کرنے کی؛ بلکہ یہ جانیں بچاتے ہوئے ایک منصفانہ سیاسی حل کی طرف پیش رفت کی اپیل ہے۔

پاکستان اور کشمیر کے عوام کے درمیان تعلق باہمی رضامندی، وقار، جمہوری حقوق اور باہمی احترام کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے۔ اس نازک گھڑی میں ہماری اولین ذمہ داری مزید خونریزی کو روکنا اور قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔

لہٰذا میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے اپیل کرتا ہوں کہ جیسے ہی حقیقت و مفاہمتی کمیشن کے قیام پر اتفاق ہو جائے، وہ اپنے مجوزہ لانگ مارچ اور دھرنوں کو معطل کر دے۔ اسی طرح حکام بھی کمیشن کی کارروائی مکمل ہونے تک مزید سخت اقدامات سے گریز کریں۔

اگر یہ تجویز حکومتِ پاکستان، حکومتِ آزاد جموں و کشمیر اور احتجاج کرنے والے تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو تو پاکستان پیپلز پارٹی مسئلے کے پرامن، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، تاکہ کشمیر کے عوام کے بہترین مفاد کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔