مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل): آزاد جموں و کشمیر میں جاری حالیہ سیاسی و عوامی تنازع پر کشمیری شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
شہریوں نے واضح کیا ہے کہ اگر کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی قانون ساز اسمبلی کی 12 مخصوص نشستوں کا خاتمہ چاہتی ہے، تو اس کا فیصلہ سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور انتخابات کے ذریعے ہونا چاہیے۔
مقامی شہریوں اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی جمہوری نظام میں آئینی ترامیم یا قوانین کی تبدیلی کا ایک ہی قانونی راستہ ہوتا ہے، اور وہ ہے مقننہ (اسمبلی)۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی کے ہمدرد اوورسیز کےغیرموثر نائیکوپ پرپاکستان سفر پر پابندی
کشمیری شہریوں نے احتجاجی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایکشن کمیٹی ان 12 نشستوں کو ختم کرنے کیلئے سنجیدہ ہے، تو وہ عام انتخابات میں حصہ لے کر عوامی مینڈیٹ حاصل کرے۔
اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد ہی ان نشستوں کے خاتمے کے لیے قانونی اور آئینی ترمیم پاس کی جا سکتی ہے، سڑکوں پر دباؤ ڈال کر آئین کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
شہریوں نے احتجاج کی کال دینے والوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس بے جا ہڑتال اور دھرنوں کی وجہ سے آزاد کشمیر کے متعدد اضلاع میں عام زندگی کا پہیہ مکمل طور پر جام ہو چکا ہے۔
مظاہروں اور امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بند ہیں، جس سے لاکھوں طلبہ کا قیمتی تعلیمی سال داؤ پر لگ گیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نیلم ویلی جانیوالی کوسٹر حادثے کا شکار، 6 افراد جاں بحق ، متعدد زخمی
آزاد کشمیر کے شہریوں نے اپیل کی ہے کہ عوامی مسائل کو ڈھال بنا کر خطے کے امن کو خراب کرنے کے بجائے تمام معاملات کو افہام و تفہیم اور قانونی دائرہ کار میں رہ کر حل کیا جائے تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔
تاجر برادری، روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور ٹرانسپورٹرز اس مسلسل بندش کی وجہ سے شدید مالی بحران کا شکار ہو چکے ہیں، اور عوام میں اس احتجاج کے خلاف اب شدید ردِعمل پایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق طویل مذاکرات کے بعد لانگ مارچ ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حکومت کو 21 جولائی تک کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے اور مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت 22 جولائی کو دوبارہ مارچ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔




