ٹی ٹی ایس اساتذہ کے لیے نیا پے اسکیل منظور، یکم جولائی 2026ء سے اطلاق کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے جامعات میں ٹینیور ٹریک سسٹم (TTS) کے تحت خدمات سرانجام دینے والے اساتذہ کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے ان کی تنخواہوں میں 35 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ آفس میمورنڈم کے مطابق وفاقی کابینہ نے ٹی ٹی ایس پے پیکیج 2026ء کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے جس کا اطلاق یکم جولائی 2026ء سے ہوگا۔

اس اہم فیصلے کے تحت پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر اور اسسٹنٹ پروفیسر کے تنخواہی ڈھانچے پر تفصیلی نظرِ ثانی کی گئی ہے جس سے ان کی تنخواہوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق اس نئے ترمیمی اسکیل کے بعد مختلف عہدوں پر تعینات تدریسی عملے کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ بنیادی تنخواہوں کی نئی حد مقرر کر دی گئی ہے جبکہ سالانہ انکریمنٹ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

نئے پے اسکیل کی تفصیلات اور تنخواہوں کا ڈھانچہ:

نظرِ ثانی شدہ اسکیل کے تحت اب ٹی ٹی ایس پروفیسر کی کم از کم بنیادی تنخواہ 3 لاکھ 94 ہزار 875 روپے سے بڑھا کر 4 لاکھ 7 ہزار 230 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ پروفیسر کی زیادہ سے زیادہ بنیادی تنخواہ 7 لاکھ 12ہزار 30 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اساتذہ کے سالانہ انکریمنٹ کو بھی پہلے سے زیادہ بڑھا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایسوسی ایٹ پروفیسر کی کم از کم بنیادی تنخواہ 3 لاکھ 70 ہزار 810 روپے جبکہ ان کی زیادہ سے زیادہ تنخواہ 6 لاکھ 45 ہزار 610 روپے طے کی گئی ہے۔ اسی طرح اسسٹنٹ پروفیسر کی کم از کم بنیادی تنخواہ 2 لاکھ 88 ہزار 20 روپے اور زیادہ سے زیادہ بنیادی تنخواہ 5 لاکھ 53 ہزار 820 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 13010 ارب روپے ٹیکس جمع، پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ سب سے آگے نکل گیا!

ملازمین کی منتقلی اور مالی اخراجات کی شرائط:

وزارتِ خزانہ نے اس ضمن میں واضح ہدایت جاری کی ہے کہ 30 جون 2026ء تک ملازمت میں موجود تمام ٹی ٹی ایس اساتذہ کو نئے پے اسکیل میں اسی مرحلے یعنی اسٹیج پر منتقل کیا جائے گا جس مرحلے پر وہ موجودہ اسکیل میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد اساتذہ کے موجودہ سروس کے مراحل کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

آفس میمورنڈم میں حکومت کی جانب سے یہ بات بھی پوری طرح واضح کر دی گئی ہے کہ اس تنخواہوں کے اضافے سے پیدا ہونے والے تمام تر مالی اخراجات متعلقہ جامعات کو اپنے ہی وسائل سے پورے کرنے ہوں گے۔ وفاقی حکومت اس مخصوص مقصد کے لیے جامعات کو کوئی بھی اضافی مالی معاونت یا فنڈز فراہم نہیں کرے گی۔

تعلیمی حلقوں کا ردعمل اور مستقبل کے اثرات:

تعلیمی حلقوں کی جانب سے وفاقی حکومت کے اس فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کیا گیا ہے اور اسے جامعات میں خدمات سرانجام دینے والے اساتذہ کے لیے ایک انتہائی مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے تدریسی شعبے سے وابستہ افراد کی حوصلہ افزائی ہوگی اور پیشہ ورانہ استحکام میں مزید بہتری آئے گی۔

مزید پڑھیں: سرکاری ملازمین کی بیوہ کی تاحیات پنشن کا قانون بحال، پنجاب کابینہ نے منظوری دے دی