فائنل میچ ٹکٹوں کی قیمتیں ساڑھے بیس لاکھ روپے سے بھی زیادہ، فیفا کو شدید تنقیدکا سامنا

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے 19 جولائی کو شیڈول ورلڈ کپ فائنل کے لیے اچانک 1200 کے قریب نئی ٹکٹیں فروخت کے لیے پیش کر دی ہیں جس کے بعد ٹکٹوں کی ہوش ربا قیمتوں پر شائقین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے. ان ٹکٹوں میں زیادہ تر کیٹیگری ٹو کے ٹکٹ شامل ہیں جن کی فی ٹکٹ قیمت 7 ہزار 380 امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے جو کہ پاکستانی روپے میں ساڑھے 20 لاکھ روپے سے بھی زیادہ بنتی ہے.

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فیفا کی آخری مرحلے کی ٹکٹ فروخت کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ مجموعی طور پر 1178 ٹکٹ اسٹیڈیم کے اوپری حصے کی پانچ مختلف سائیڈ لائن سیکشنز میں موجود ہیں. ان نشستوں کی تفصیلات کے مطابق سیکشن 344 میں 282، سیکشن 343 میں 299، سیکشن 335 میں 139، سیکشن 334 میں 443 اور سیکشن 333 میں 15 ٹکٹ فروخت کے لیے دستیاب ہیں جبکہ تصویر میں دستیاب معلومات کے مطابق فیفا کو ورلڈ کپ فائنل کے ٹکٹس فروخت کرنے میں دشواری کا سامنا بھی ہے.

اسٹیڈیم کے مختلف سیکشنز اور وی آئی پی ٹکٹوں کی تفصیلات:

اسٹیڈیم کی نیچے والی منزل یعنی لوئر ڈیک کی بھی 68 فرنٹ کیٹیگری ون ٹکٹیں فروخت کے لیے موجود ہیں جن کی قیمتیں 19 ہزار 995 ڈالر سے لے کر 32 ہزار 970 ڈالر تک مقرر کی گئی ہیں. ان مہنگی ٹکٹوں کی فروخت کے ساتھ ساتھ وی آئی پی مہمانوں کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جن کے لیے ٹرافی لاؤنج اور ٹرافی لاؤنج پلس سیکشنز کی ٹکٹیں بھی دستیاب کی گئی ہیں.

یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈکپ،بیلجیئم کو شکست، اسپین نے سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا

ان وی آئی پی کیٹیگریز کے ٹکٹوں کی قیمت 32 ہزار 500 ڈالر اور 34 ہزار 500 ڈالر مقرر کی گئی ہے اور اس بھاری قیمت کے اندر شائقین کے لیے کھانا اور مشروبات بھی شامل کیے گئے ہیں. ان ہوش ربا قیمتوں نے دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کو حیرت میں ڈال دیا ہے کیونکہ فائنل دیکھنے کے لیے اب شائقین کو خطیر رقم خرچ کرنا پڑے گی.

دیگر میچوں کے نرخ اور ری سیل مارکیٹ کے حیران کن اعداد و شمار:

دوسری جانب اگر فٹ بال ورلڈ کپ کے دیگر میچوں کی بات کی جائے تو کینساس سٹی کے ایرو ہیڈ اسٹیڈیم میں ارجنٹائن اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان کھیلے جانے والے کوارٹر فائنل میچ کی ٹکٹیں بھی 16 سو سے لے کر 3 ہزار 995 ڈالر میں دستیاب ہیں. اگر کوئی صارف فیفا کی اپنی ری سیل مارکیٹ یعنی دوبارہ ٹکٹ بیچنے والی جگہ سے فائنل کی ٹکٹ خریدنا چاہے تو وہاں قیمتیں مزید زیادہ ہیں.

ری سیل مارکیٹ میں فائنل میچ کے ٹکٹ کی قیمتیں 7 ہزار 440 ڈالر اور 50 سینٹس سے شروع ہو کر 11 ہزار 499 ڈالر تک پہنچ چکی ہیں. ٹکٹوں کی ان غیر معمولی قیمتوں کی وجہ سے فیفا کو مختلف مراحل کے دوران شائقین کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور شائقین کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر ٹکٹوں کی حد سے زیادہ قیمتوں پر فیفا کے خلاف عدالت میں مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

فیفا صدر کا موقف اور مختلف ریاستوں میں جاری قانونی تحقیقات:

رواں سال اپریل میں فیفا کے ری سیل پلیٹ فارم پر 20 لاکھ امریکی ڈالر فی ٹکٹ کی قیمت والے چار ٹکٹ بھی سامنے آئے تھے. اس موقع پر فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے اس معاملے پر مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا تھا لیکن ساتھ ہی انہوں نے ان قیمتوں کا دفاع بھی کیا تھا اور موقف اپنایا تھا کہ عالمی تنظیم امریکی قوانین کے تحت کام کرنے پر مجبور ہے جہاں اصل قیمت سے ہزاروں ڈالر مہنگی ٹکٹیں دوبارہ بیچنے کی قانونی اجازت ہے.

ادھر فیفا کو نیویارک اور نیو جرسی کی ریاستی حکام کی جانب سے جاری تحقیقات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے. یہ اہم تحقیقات ورلڈ کپ ٹکٹوں کی قیمتوں اور شائقین کو فراہم کی جانے والی نشستوں کی درست معلومات سے متعلق معاملات پر کی جا رہی ہیں تاکہ شائقین کو کسی بھی قسم کے ابہام سے بچایا جا سکے.

مزید پڑھیں: فیفا ورلڈکپ ، کونسی ٹیم کوارٹر فائنل میں کس سے اور کب اور ٹکرائے گی؟

ٹکٹوں کی فروخت کا نتیجہ:

ٹکٹوں کی ان ہوش ربا قیمتوں اور قانونی پیچیدگیوں کے باوجود دنیا بھر میں فٹ بال ورلڈ کپ کے فائنل میچ کا جنون برقرار ہے. شائقین مہنگی ترین ٹکٹیں خرید کر بھی اسٹیڈیم پہنچنے اور اپنی پسندیدہ ٹیموں کو سپورٹ کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دے رہے ہیں.