پاکستان دنیا بھر میں سولر پینلز درآمد کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے، جہاں سال 2024ء کے دوران 17 گیگاواٹ کے سولر پاور سسٹمز درآمد کیے گئے ہیں۔ یہ شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں دوگنا ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بنیادی وجوہات بجلی کے بلند نرخ اور عالمی منڈی میں سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں کمی بتائی گئی ہے۔
وزارتِ خزانہ اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے اشتراک سے تیار کی گئی “پاکستان کلائمیٹ پراسپیریٹی پلان (CPP)” رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگی بجلی، بڑھتے گردشی قرضے اور توانائی کے شعبے کے مالی مسائل سے نمٹنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان سنگین مسائل کے حل کے لیے بجلی کی خریداری کے مہنگے معاہدوں (PPAs) پر نظرثانی، حقیقت پسندانہ ٹیرف کے نفاذ، اور پرانے و غیر مؤثر فوسل فیول پاور پلانٹس کو مرحلہ وار بند یا تبدیل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
سولر سسٹمز کی درآمد میں ریکارڈ اضافہ اور گردشی قرضوں کے اسباب:
رپورٹ میں باقاعدہ تصدیق کی گئی ہے کہ پاکستان نے سال 2024ء میں مجموعی طور پر 17 گیگاواٹ کے سولر سسٹمز درآمد کیے ہیں، جو کہ سال 2023ء کے مقابلے میں دوگنا حجم بنتا ہے۔ اسی غیر معمولی اور ریکارڈ اضافے کی بنا پر پاکستان اب عالمی سطح پر سولر پینلز درآمد کرنے والے بڑے ممالک کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خصوصی سولر اسکیم: فلیٹوں میں رہنے والوں کے لیے حکومت کا بڑا فیصلہ
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور کرنسی کے خطرات نے بجلی کی پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں عام صارفین کے لیے بجلی انتہائی مہنگی ہوئی اور گردشی قرضے میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے ایسی مہنگی پیداواری صلاحیت کی ادائیگیاں کر رہا ہے جسے مکمل طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا رہا۔
صاف اور قابلِ تجدید توانائی کے دور رس اہداف:
رپورٹ کے اندر توانائی کے شعبے کی ترقی اور پائیداری کے لیے متعدد اہم اور بڑے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ ان اہداف کے تحت سال 2030ء تک قومی توانائی میں 60 فیصد حصہ صاف توانائی کا بنانا، سال 2035ء تک مجموعی بجلی کا 50 فیصد حصہ قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا کرنا، اور سال 2040ء تک بجلی کی مجموعی پیداوار میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 95 فیصد تک پہنچانا شامل ہے۔
اس کے علاوہ پلان کے مطابق سال 2035ء تک 14 ہزار میگاواٹ فوسل فیول پاور پلانٹس کو مرحلہ وار مکمل بند کرنے یا انہیں متبادل ایندھن پر منتقل کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی بجلی کی ترسیل و تقسیم میں ہونے والے نقصانات کو 19 فیصد کی موجودہ سطح سے کم کر کے 8 فیصد تک لانے، اور ملک بھر میں تمام شہریوں کو 100 فیصد بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کا عزم کیا گیا ہے۔
اسکولوں کی سولرائزیشن اور کاربن کریڈٹس کے اہداف:
توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے اس منصوبے میں یہ ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے کہ ملک کے تمام سرکاری سیکنڈری اسکولوں کی چھتوں پر سولر سسٹمز نصب کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی بہتری اور عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے سال 2030ء تک سالانہ 20 کروڑ ٹن کاربن کریڈٹس پیدا کرنے کا ہدف بھی حاصل کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق شمسی، ہوا، پن بجلی اور مقامی بایو ماس جیسے مقامی قابلِ تجدید ذرائع کی جانب منتقلی سے درآمدی ایندھن پر ملک کا انحصار نمایاں حد تک کم ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں واضح کمی آئے گی، توانائی کا تحفظ پہلے سے بہتر ہوگا اور ماحولیات کو نقصان پہنچانے والے کاربن اخراج میں بھی نمایاں کمی ممکن ہو سکے گی۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کی کڑی شرط، سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 18 فیصد کرنے کی تجویز
گرڈ کی جدیدکاری اور نجی سرمایہ کاری کے لیے سفارشات:
پاکستان کلائمیٹ پراسپیریٹی پلان کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر سولر اور ونڈ فارمز کے قیام، توانائی ذخیرہ کرنے کی جدید سہولتوں کی فراہمی اور قومی گرڈ کی جدیدکاری میں سرمایہ کاری کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف بجلی کا نظام زیادہ مستحکم ہوگا بلکہ کم استعمال ہونے والے بجلی گھروں کی گنجائش کی مد میں ادا کیے جانے والے بھاری اخراجات بھی کم ہو جائیں گے۔
رپورٹ میں مستقبل کے حوالے سے مزید سفارش کی گئی ہے کہ نئے قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کے لیے مکمل شفاف نیلامی کا نظام متعارف کرایا جائے۔ نجی سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے کریڈٹ گارنٹی کا دائرہ وسیع کیا جائے، اور بجلی کے گرڈ کی اپ گریڈیشن و توانائی کی بچت کے منصوبوں پر سرمایہ کاری بڑھائی جائے تاکہ ملک میں ایک جدید، سستا اور پائیدار توانائی کا نظام تشکیل دیا جا سکے۔




