مسلح افراد کا گشت، ناکے، آزادکشمیر میں غذائی قلت کا باعث ہیں،پونچھ انتظامیہ

راولاکوٹ(کشمیر ڈیجیٹل)پونچھ انتظامیہ کی جانب سے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ راولا کوٹ اور گرد و نواح کی تمام سڑکوں پر مسلح افراد نے ناکے لگا کر غذائی قلت پیدا کر رکھی ہے۔

تمام سڑکوں پر درخت کاٹ کر اور پتھر پھینک کر سڑکیں بند کر رکھی ہیںجس کی وجہ سے ڈرائیور حضرات اشیاء خورونوش لانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ شر پسند عناصر ان کیساتھ تحقیر آمیز سلوک کرتے ہیں۔

انتظامیہ نے باغ راولا کوٹ روٹ کھلوانے کیلئے سڑکوں سے درخت اور ملبہ ہٹانے کا آغاز کیا تو کو ٹیڑہ پوٹھی کلاں کے مقام پر دہشتگردوں نے فائرنگ شروع کر دی۔

دہشتگردوں نے سڑکوں کے اطراف میں پوزیشنز سنبھال رکھی تھیں ،ہزاروں بلٹ فائر کیں اور جدید اسلحہ کا استعمال کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز پر حملہ اور ہوئے اور مساجد میں جاکر لوگوں اشتعال دلانے کیلئے اعلانات شروع کئے گئے۔

پونچھ انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ کے علاوہ پتھراؤ کر کے سکیورٹی فورسز کا راستہ روکا گیا۔ ان فراد نے ایک ماہ سے راستہ روک رکھا ہے پورے گاؤں یر غمال بنارکھے ہیں ،مساجد اور ہائی سکول کی عمارتوں پر ایک ماہ سے قبضےکررکھے ہیں ۔

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی ایماء پر سڑکیں بند کر رکھی ہیں۔ عام آدمی کیلئے خوراک نہیں پہنچ پارہی۔ مسلح جتھے سڑکوں پر بیٹھے ہیں جن میں سے باغ راولا کوٹ روٹ شدید مزاحمت کے بعد کلئیر کروا دیا گیا ہے

مزید یہ بھی پڑھیں:آئندہ سال حج مزیدمہنگا،اخراجات 13 لاکھ روپے تک جانے کا امکان

دوسری جانب تاجر ،ٹرانسپورٹر زکو ہالہ کے راستے اشیاء خور و نوش لانے کیلئے تیار ہیں مگر روٹس کلیئرکروانے کے باوجود کالعدم ایکشن کمیٹی مزید خوف وہراس پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔

انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ ویڈیوز کے ذریعے شر پسندوں کی شناخت کی جارہی ہے انکی معاونت کرنے والوں کے خلاف ہر سطح پر کارروائی کی جائے گی۔

انتظامیہ کے مطابق در یک دھرنے سے خود کو نہتے اور پر امن رہنے کے دعووں کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے جبکہ ہر دھرنے میں مسلح جتھہ موجود ہے ۔

پونچھ انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ راولپنڈی راولا کوٹ روڈ پر دہشتگردوں نے چھوٹے بڑے ہتھیاروں کے ساتھ سڑک اور پہاڑیوں پر پوزیشن سنبھال رکھی ہیں ۔

پونچھ انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ جو لوگ ان دھرنوں کو پر امن سمجھ رہے ہیں وہ سرکاری ملازمین یا فوڈ سپلائی کی گاڑیوں کیساتھ سفر کر کے دیکھ لیں ۔ شرپسندوں کیسا تھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

عام آدمی کو حقوق کے نام پر گمراہ کر کے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے جبکہ آزاد کشمیر پاکستان کے تمام صوبوں سے بہتر معیار زندگی والا خطہ ہے۔

گزشتہ تین سال سے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے لانگ مارچ ترتیب دیئے جس سے اس خطے کا ٹورزم ختم ہو گیا۔ انویسٹرز کروڑوں روپے کا نقصان کر بیٹھے راستوں کی بندش نے پر امن خطے کا تاثر ہی بگاڑ دیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وفاداری کی شق ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والے مذاکرات کے لائق نہیں، بجلی و آٹے پر سبسڈی جاری رہے گی: امیر مقام

گھریلو مسائل کے نتیجہ میں بھی سڑک بند کرنے کا رواج عام ہو گیا۔ سرکاری مشینری جلائی جاتی رہی، فورسز ہی پر تشدد، حملے کرنا اور لاشوں کی بے حرمتی جیسے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت نے سادہ لوح لوگوں کو حقوق کے نام پر اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا۔

پونچھ انتظامیہ کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ تین سال کے دلخراش واقعات کے بعد سیکورٹی فورسز نے ان مسلح جتھوں کو مظفر آباد جانے سے روکا تو یہ گردو نواح میں سڑکیں بند کر کے غذائی قلت پیدا کرنے مرتکب ہو رہے ہیں۔

اس لئے جو ائنٹ فورسز ان کی شر پسندی کے خلاف مصروف کار ہیں۔ بلیک میلنگ ، جتھہ بندی، اسلحہ برداری اور راستوں کی بندش کیخلاف موثر کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

مقامی اور سوشل میڈیاء حقائق جانے بغیر ایسے افراد کو مظلوم ثابت نہ کرے جو سٹیج سے امن کے پیغام جاری کرتے ہیں اور ہر راستے اور پہاڑی پر مسلح جتھے بٹھارکھے ہیں۔ عوام سوشل میڈیا کی خبروں پر بلا تصدیق یقین نہ کرے۔