لاہور: پنجاب میں سرکاری ملازمین کی بیوہ کی تاحیات پنشن کا قانون باقاعدہ طور پر بحال کر دیا گیا ہے اور اس اہم فیصلے کی صوبائی کابینہ سے باضابطہ منظوری بھی لے لی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، صوبائی کابینہ کی جانب سے دی جانے والی اس اہم منظوری کے بعد پہلے سے نافذ کی گئی 10 سالہ حد کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ بیوہ کی تاحیات پنشن کی بحالی کے اس سلسلے میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے باضابطہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
بیوہ کی تاحیات پینشن اور اس کی منتقلی کا قانون:
رولز کے مطابق، اگر فیملی پینشن کی حقدار متوفی سرکاری ملازم یا پینشنر کی بیوہ (یا بیویاں) یا سرکاری ملازم عورت کی وفات کے بعد اس کا شوہر ہو، تو یہ پینشن اسے تاحیات یا دوسری شادی کرنے تک باقاعدگی سے ادا کی جائے گی۔ تاہم، اگر پینشن حاصل کرنے والی بیوہ کی بھی وفات ہو جائے، تو اس کی فیملی پینشن متوفی ملازم کے ان بقایا بیٹوں میں برابر تقسیم کر دی جائے گی جن کی عمر چوبیس سال سے زائد نہ ہو، اور ان بیٹیوں میں تقسیم ہوگی جو ابھی تک غیر شادی شدہ ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر:سرکاری ملازمین کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع،تنخواہیں بند
ملازمت کے دوران وفات اور گریجویٹی کی ادائیگی:
اگر کوئی سرکاری ملازم ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی وفات پا جائے، تو پینشن کا حساب کتاب یوں لگایا جاتا ہے جیسے وہ ملازم اپنی وفات کی تاریخ پر ہی انویلڈ پینشن پر ریٹائر ہوا ہو۔ یہ پینشن ملازم کی وفات کے اگلے ہی دن سے حقداروں کے لیے جائز ہو جاتی ہے۔ مزید برآں، اگر متوفی سرکاری ملازم کے پسماندگان میں کوئی قریبی فیملی موجود نہ ہو، تو گریجویٹی کی رقم دیگر زندہ رشتہ داروں کو مقررہ طریقہ کار کے تحت ادا کی جاتی ہے۔
فیملی پینشن ٹری اور منظوری کا اختیار:
پینشن رولز کو مزید نرم بنانے کے بعد، اب فیملی پینشن کا دائرہ کار متوفی سرکاری ملازم یا پینشنر کے دیگر قریبی رشتہ داروں تک بھی وسیع کر دیا گیا ہے، جس کے لیے باقاعدہ اہلیت اور وراثت کی ایک ترتیب مقرر ہے۔ اس سلسلے میں ایک تصویری یا گرافیکل خاکہ بھی تیار کیا گیا ہے جو وراثت کے اس پورے نظام کو واضح کرتا ہے۔ تاہم، پینشن کی حتمی منظوری کا اختیار ‘پینشن سینکشننگ اتھارٹی’ کے پاس ہوتا ہے، جو ہر کیس کا انفرادی جائزہ لے کر فیصلہ کرتی ہے۔
نابالغ بچوں کے لیے پینشن اور سرپرست کا تعین:
متوفی سرکاری ملازم کے نابالغ بچوں کے لیے فیملی پینشن اور گریجویٹی کے حصص کی ادائیگی رولز کے تحت کی جاتی ہے۔ منظوری دینے والی اتھارٹی نابالغ بچوں کی پینشن ان کی والدہ کو ادا کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ لیکن اگر بچوں کی والدہ حیات نہ ہو یا ملازم کی زندگی میں ہی اس سے عدالتی طور پر علیحدگی ہو چکی ہو، تو اتھارٹی بچوں کی طرف سے رقم وصول کرنے کے لیے کسی بھی موزوں شخص کو قانونی سرپرست نامزد کر سکتی ہے۔ اگر متوفی ملازم خاتون ہو، تو یہی حق بچوں کے والد یا ان کی عدم موجودگی میں نامزد سرپرست کو ملتا ہے۔
مزید پڑھیں: آزادکشمیر بجٹ:سرکاری ملازمین کی تنخواہوں ،پنشن میں اضافے کا اعلان
سکسیشن سرٹیفکیٹ کی چھوٹ اور درخواست کا طریقہ کار:
پنجاب سول سروس پینشن رولز کے تحت فیملی پینشن کے تعین کے لیے عدالتِ عالیہ یا کسی بھی عدالت سے سکسیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی کوئی قانونی شرط نہیں ہے، بلکہ یہ پینشن رولز میں بیان کردہ فیملی کی تعریف کے مطابق ہی ادا کی جاتی ہے۔ پینشن کی براہِ راست بینک اکاؤنٹ میں منتقلی کے نئے طریقہ کار کے مطابق، ان-سروس ڈیتھ کی صورت میں فارم ڈی-ون اور پینشنر کی وفات کی صورت میں فارم ڈی-ٹو پر دو مراحل پر مشتمل کارروائی کے ذریعے درخواست پینشن سینکشننگ اتھارٹی کو جمع کرائی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملازم کی فیملی کے لیے ایک تفصیلی فنانشل ریلیف پیکیج بھی فراہم کیا جاتا ہے۔




