سکیورٹی فورسز

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا فتنۂ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 38 دہشت گرد ہلاک

کوئٹہ/بلوچستان: زیارت اور این-25 ہائی وے پر ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان بھر میں انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز انتہائی تیز کر دیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، جاری کریک ڈاؤن اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران اب تک فتنۂ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 38 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں اب بھی سرچ اور کلیئرنس آپریشنز کا سلسلہ سخت سیکیورٹی کے ساتھ جاری ہے، جس کا بنیادی مقصد حالیہ کارروائیوں میں ملوث دہشت گردوں کے پورے نیٹ ورک اور ان کے ٹھکانوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آپریشن ’’غضب الحق‘‘:سیکیورٹی فورسز کی افغانستان میں دہشتگرد ٹھکانوں پر کارروائی، متعدد اہداف کامیابی سے تباہ

سرحد پار کارروائیوں پر غور اور وسیع تر حکمتِ عملی:

ذرائع کے مطابق، سیکیورٹی ایجنسیاں بلوچستان میں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچےکو مستقل طور پر نشانہ بنانے کے لیے ایک وسیع تر حکمتِ عملی تیار کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں افغانستان کے اندر موجود مبینہ ہینڈلرز اور سہولت کاروں کے خلاف بھی ممکنہ کارروائیوں پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے تاکہ دہشت گردی کے بیرونی روابط کا خاتمہ کیا جا سکے۔

حکام نے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ حملوں کے ذمہ داروں کو انجام تک پہنچانے تک یہ آپریشنز بلا تعطل جاری رہیں گے۔ تاہم، آزاد ذرائع سے ان ہلاکتوں اور آپریشنل دعووں کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ واضح رہے کہ زیارت اور این-25 شاہراہ پر ہونے والے مہلک واقعات کے بعد سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور حکام نے ہر قیمت پر صوبے میں امن برقرار رکھنے اور مستقبل کے حملوں کو روکنے کا پختہ عزم ظاہر کیا ہے۔