وادی نیلم کی تقدیر الیکشن جیت کر پوری طرح بدل دیں گے اور عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ کسی اور پر نہیں بلکہ صرف اور صرف عوام کی فلاح و بہبود پر ہی خرچ کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر ریٹائرڈ خاقان ایاز نے اپنی پہلی باضابطہ پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں سے تفصیلی اور خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے اپنی انتخابی حکمتِ عملی اور سیاسی پوزیشن کو واضح کیا۔ پروفیسر ریٹائرڈ خاقان ایاز نے انکشاف کیا کہ انہوں نے کسی سیاسی جماعت کے بجائے اس بار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کو ترجیح دی ہے، تاکہ وہ بلا تفریق خطے کے عوام کی خدمت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی اکثر یہ شکایت ہوتی ہے کہ vote لے کر جیتنے والا نمائندہ غائب یا چھپ جاتا ہے، لیکن میں عوام کو یہ آفر کرتا ہوں کہ آپ ہمارے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہمیں ووٹ دیں، ہم سادہ اور ذمہ دار لوگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: مسلم لیگ (ن) نے الیکشن رابطہ سیل قائم کردیا
ووٹ کی شرعی اہمیت اور ذمہ داری:
پروفیسر ریٹائرڈ خاقان ایاز نے ووٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شریعت کے مطابق ایک ووٹ کی قیمت سونے کے ایک سکے کے برابر ہے کیونکہ ووٹ کے ذریعے آپ کسی کو اپنا مستقبل سونپ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اس بار باریاں بدلنے والے روایتی سیاست دانوں کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور اب وہ ان کے کسی بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتخابی نشان ‘تختی’ ہی جیت کا نشان ہے اور عوام تختی پر مہر لگا کر اپنی بیداری کا ثبوت دیں۔
انتخابی نشان ‘تختی’ اور وسائل کا استعمال:
انہوں نے بتایا کہ مجھے انتخابی نشان ‘تختی’ ملا ہے کیونکہ ہم وادی نیلم کے پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور میں نیلم کے انتخابات میں باقاعدہ ایک فارمل انداز میں داخل ہوا ہوں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وادی نیلم کے پاس جتنے بھی وسائل موجود ہیں، ان کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم نیلم کی تقدیر بدل دیں گے، انشا اللہ، اور اس مقصد کے لیے ہم اپنی بھرپور صلاحیتیں استعمال کریں گے۔
علامہ اقبال کے نظریے کے تحت کام کرنے کا عزم:
گفتگو کے دوران انہوں نے حکیم الامت علامہ اقبال کا مشہور شعر بھی پڑھا:
بتانِ رنگ و خون کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی
ان کا کہنا تھا کہ اسی نظریے کے ساتھ ہم اپنے تمام بھائیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وسائل کے حساب سے جتنے بھی جائز کام ہوں گے، وہ کیے جائیں گے اور ہر ممکن حد تک عوام کی خدمت کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ خطے کے دانشور نوجوانوں کو ان تمام سیاسی و سماجی معاملات میں لازمی طور پر ان (In) رہنا چاہیے۔
سادہ منشور اور عملی کام کا وعدہ:
پروفیسر ریٹائرڈ خاقان ایاز نے اپنے انتخابی منشور پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارا منشور بہت سادہ ہے۔ ہم عوام کے ٹیکسوں کے امین ہوتے ہیں اور اسی پیسے سے کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی دودھ کی نہریں تو نہیں بہا سکتا، تاہم سب کچھ آپ کے اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر لگایا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ ہمارے ہاں صرف کاغذی اسکیمیں نہیں ہوں گی بلکہ زمین پر حقیقی کام ہوگا، انشا اللہ۔




