کور کمانڈر کانفرنس کے فیصلے قومی خواہشات کی ترجمانی ہیں: شوکت جاوید میر

پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے فیلڈ مارشل و چیف آف ڈیفنس فورسز حافظ سید عاصم منیر کی صدارت میں منعقد ہونے والی 276ویں کور کمانڈر کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں کو قومی خواہشات کی حقیقی ترجمانی قرار دیا ہے۔ پی پی پی نے افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ ناقابلِ تسخیر دفاع، قومی تشخص اور ریاستی وقار کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار ترجمان حکومتِ آزاد کشمیر و پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شوکت جاوید میر نے کور کمانڈر کانفرنس میں کیے گئے شاندار فیصلوں کے متعلق میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ناقابلِ تقسیم وحدت کے تحفظ، ڈیڑھ کروڑ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد خطے کی تعمیر و ترقی سمیت تعلیم، صحت اور روزگار کی فراہمی سے عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنے میں افواجِ پاکستان نے فراخدلی اور ایثار کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی شدید اختلافات سے دوچار، وزیر اطلاعات چوہدری رفیق نیئر سمیت درجنوں سینئر رہنما مستعفی

پیپلز پارٹی کا نظریہ اور عوامی اتحاد:

شوکت جاوید میر نے میڈیا سے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی قیادت میں قائم پیپلز پارٹی کی حکومت بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح، مصورِ پاکستان علامہ ڈاکٹر محمد اقبال، معمارِ پاکستان قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور دخترِ مشرق محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے افکار و نظریات پر مکمل عمل درآمد کر رہی ہے۔ اسی کی بدولت قوم تقسیم در تقسیم کی دلدل سے نکل کر متحد ہوئی ہے اور ‘پاکستان زندہ آباد’ کی اجتماعی صداؤں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔

افغانستان سے بھارتی پراکسیز اور آپریشن غضب للحق:

مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات نے میڈیا کو بتایا کہ اس معتبر قومی فورم نے موجودہ سیکیورٹی صورتحال، مسلح افواج کی آپریشنل تیاری، پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی آمادگی میں حاصل کامیابیوں کا تسلسل جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ فورم نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ افغان طالبان حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقے کو بھارت کے زیرِ حمایت دہشت گرد گروپوں بشمول فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کی جانب سے مسلسل پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

فورم نے تصدیق کی کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام اس بات سے مشروط ہے کہ افغان طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقے کو بھارتی دہشت گرد پراکسیوں کے استعمال سے روکا جائے، جس کی براہِ راست ذمہ داری افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان کو اپنے لوگوں کو دہشت گردی سے بچانے کا مکمل حق حاصل ہے اور مسلح افواج “آپریشن غضب للحق” کے تحت افغان طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقے سے آنے والی دہشت گردی کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھیں گے۔

گورننس کا قیام اور ہائبرڈ وارفیئر کا مقابلہ:

کائینیٹک کارروائیوں کے علاوہ، فورم نے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر مضبوط گورننس ڈھانچے قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جو عوامی خدمت اور فلاح و بہبود پر مرکوز ہوں، اور ساتھ ہی ایسے بدنام زمانہ دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو توڑا جائے گا جو سیاسی سرپرستی میں پروان چڑھ رہا ہے۔ فورم نے یہ بھی واضح کیا کہ “معرکہ حق” میں جامع شکست کے بعد بیرونی حمایت یافتہ ہائبرڈ وارفیئر اور گمراہ کن پروپیگنڈا مہمات کا ایک نیا انداز اپنایا جا رہا ہے تاکہ عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔ فورم نے ریاست کی طرف سے پراکسیوں کی ہر قسم کی مالی معاونت، سہولت کاری یا سرپرستی کو ناقابلِ برداشت قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ہائبرڈ ذرائع سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش کا مقابلہ اسٹریٹیجک وضاحت اور پختہ عزم کے ساتھ کیا جاتا رہے گا۔

علاقائی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے، فورم نے مکالمے، کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔ اس نے بین الاقوامی قانون کا احترام اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون میں انسداد کے ساتھ پرامن تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

سندھ طاس معاہدہ اور کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے:

فورم نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارتی بیان بازی کا نوٹس لیتے ہوئے 24 اپریل 2025 کے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے ہدایات نامے میں دی گئی رہنمائی کا اعادہ کیا۔ فورم نے حکومت کی ہدایات اور عوامِ پاکستان کی امنگوں کے مطابق پانی کے پاکستان کے جائز حصے کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کے غیر متزلزل عزم کا اظہار کیا۔

کور کمانڈر کانفرنس میں بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور یکطرفہ آبادیاتی تبدیلیوں کو مسترد کرتے ہوئے شدید مذمت کی گئی اور قرار دیا گیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کشمیر کاز کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل سفارتی, سیاسی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے فورم نے زور دیا کہ علاقائی استحکام کا حقیقی دارومدار کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دینے پر ہے۔

فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی ہدایات:

آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز حافظ سید عاصم منیر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کمانڈرز کو ہدایت دی کہ جنگ کے بدلتے ہوئے کردار کے مطابق کثیر جہتی تبدیلی کے پلان پر جلد از جلد عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے کمانڈرز پر زور دیا کہ وہ اعلیٰ ترین چوکسی، آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت کے معیار برقرار رکھیں اور روایتی، غیر روایتی اور ہائبرڈ خطرات کا مربوط جواب دیتے ہوئے پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کریں۔

شوکت جاوید میر نے میڈیا سے گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ پاکستانی و کشمیری عوام کے لیے بالعموم اور طلباء و طالبات سمیت نوجوان نسل کے لیے رہنمائی کی بہترین دستاویز ہے۔ پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کی قیادت میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے کیونکہ ہمارا نظریہ ‘سب سے پہلے پاکستان’ ہے، اسی لیے اہل کشمیر پاکستان اور افواجِ پاکستان کو ریڈ لائن تصور کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے قومی ہیروز، شہدائے افواجِ پاکستان اور شہدائے کشمیر کو زبردست الفاظ میں سلام پیش کیا۔