امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلی فونک گفتگو میں یوکرین جنگ کے حل کے لیے مدد کی پیشکش کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی رابطہ کیا جنہوں نے گفتگو کو مثبت قرار دیتے ہوئے جنگ کے خاتمے کی امید ظاہر کی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے بھارت کے 11 طیارے گرائے ، ٹرمپ نے مودی کے زخم پھر تازہ کر دیئے
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہفتے کے روز امریکا کے یومِ آزادی کے موقع پر تقریباً 90 منٹ تک ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔
کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے آئندہ ہفتے ترکیہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے تناظر میں یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش کی اور کہا کہ وہ لڑائی کے جلد خاتمے اور بحران کے حل کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ان کے مطابق گفتگو کاروباری نوعیت کی اور تعمیری رہی جب کہ روس نے ایک بار پھر اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ تنازع کا حل سیاسی اور سفارتی ذرائع سے ہونا چاہیے اور اس میں روس کے بنیادی مؤقف کو مدنظر رکھا جانا ضروری ہے۔
کریملن کے معاون نے الزام عائد کیا کہ یوکرین اور اس کے یورپی اتحادی جنگ کو طول دینے اور مزید شدت اختیار کرنے کے خواہاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور ایران میں جاری اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل ہونگے : روسی صدر
ان کا اشارہ روس کے اندر تیل سے متعلق تنصیبات پر یوکرین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں کی جانب تھا، جن کے باعث بعض روسی علاقوں میں ایندھن کی قلت پیدا ہوئی۔
اوشاکوف نے بتایا کہ صدر پیوٹن نے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ کو محاذِ جنگ کی صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ روسی افواج مسلسل پیش قدمی کر رہی ہیں اور مختلف علاقوں پر کنٹرول حاصل کر رہی ہیں۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ روسی افواج نے مشرقی یوکرین کے ڈونیٹسک خطے میں واقع اہم شہر کوستیانتینیوکا پر قبضہ کر لیا ہے تاہم یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یوکرین کی جنرل اسٹاف نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شہر اب بھی یوکرینی افواج کے کنٹرول میں ہے۔
روس کا موقف ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں ڈونباس خطے پر ماسکو کا مکمل کنٹرول تسلیم کیا جانا چاہیے جبکہ یوکرین اس مطالبے کو مسترد کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خامنہ ای کی آخری رسومات دیکھ کر حیران ہوں،چاہتے تو سب کو نشانہ بنا سکتے تھے، امریکی صدر
یوری اوشاکوف کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر امن معاہدے کی کوششیں جاری رکھیں گے اور ایک بار پھر ماسکو کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صدر پیوٹن نے ایران سے متعلق تنازع میں امریکی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے ذریعے بھی قابل قبول اور دیرپا حل تلاش کیا جا سکے گا۔ پیوٹن نے ٹرمپ کو ماسکو کے دورے کی اپنی سابقہ دعوت بھی دہرائی۔




