مظفرآباد:آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے غیور شہری آئے روز ہونے والے احتجاجوں، ہڑتالوں اور دھرنوں کی سیاست سے شدید تنگ آ چکے ہیں۔ مقامی تاجروں، عام شہریوں اور سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ مسلسل احتجاجی کالز اور دھرنوں کے باعث شہر میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو کر رہ گئے ہیں، جس سے معاشی و سماجی بحران جنم لے رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق دارالحکومت کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی بندش، شٹ ڈاؤن اور پہیہ جام کی وجہ سے کاروباری مراکز مفلوج ہو جاتے ہیں اور شہر کا پورا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد : پہیہ جام اور شٹ ڈاؤن کی سیاست مسترد، شہریوں کا امن اور معاشی ترقی کا ساتھ
دیہاڑی دار مزدور شدید مشکلات کا شکار:
اس صورتحال کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ مسلسل ہڑتالوں کے باعث خصوصاً دیہاڑی دار مزدور طبقہ شدید ترین معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ شہریوں نے نشاندہی کی ہے کہ وہ غریب مزدور جو دن بھر شہر کے چوک چوراہوں پر محنت مزدوری کی تلاش میں کھڑے رہتے ہیں اور شام کو حاصل ہونے والی کمائی سے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں، ان کے لیے اب دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ناممکن ہو چکا ہے۔ کاروبار بند رہنے سے ان محنت کشوں کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آ گئی ہے۔
ایکشن کمیٹی سے احتجاج ختم کرنے کا مطالبہ:
مظفرآباد کے شہریوں اور معززین نے اب دوٹوک انداز میں مطالبہ کیا ہے کہ ایکشن کمیٹی اپنے اس مسلسل احتجاجی سلسلے اور دھرنوں کو فوری طور پر ختم کرے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ریاست کو معاشی طور پر تباہ کرنے اور غریب کا چولہا بند کرنے والی اس سیاست کو اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے انتظامیہ اور ایکشن کمیٹی دونوں پر زور دیا کہ شہر میں معمول کی زندگی کو مکمل طور پر بحال کیا جائے تاکہ غریب طبقہ مزید سنگین مشکلات اور فاقہ کشی سے محفوظ رہ سکے۔




